پیدا کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں

فرمایا’’قسم ہے طِین کی اور زیتون کی
طور سینا کی اور اس شہر امن(مکّہ) کی
آدمی کو ہم نے بہترین تقویم پر پیدا کیا‘‘
ہاں! مگر یہ کہ خود اپنے ساتھ آدمی کیا کرتا ہے۔ارشاد کیا: اے میرے بندو، تم پر افسوس!
کیا پاکستان‘ دنیا بھر میں زیتون پیدا کرنے والا سب سے بڑا مک بن سکتا ہے؟حیرت انگیز طور پر اس سوال کا جواب اثبات میں ہے۔ اس سے بھی زیادہ یہ کہ مطلوبہ ہدف کا حصول چند برس میں ممکن ہے‘کام کا آغاز پہلے ہی ہو چکا۔
اس وقت دنیا کا 45فیصد زیتون سپین میں پیداہوتا ہے۔ اس فصل کے لئے اس کے پاس کل قابل کاشت رقبہ 26لاکھ ہیکٹر ہے۔ اب تک پاکستان میں جس رقبے کی نشاندہی ہو چکی‘ وہ 44لاکھ ہیکٹر ہے۔ سپین سے 160فیصد زیادہ۔
تیس برس پہلے جب اس موضوع پر لکھنا شروع کیا تو اول اول ماہرین کرام نے میرا مذاق اڑایا۔ نکتہ یہ تھا کہ ملک میں جنگلی زیتون کے جو تین کروڑ درخت موجود ہیں‘ پیوند کاری کے ذریعے‘ ان سے ثمر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ تین عشروں میں ان درختوں کی تعداد 6کروڑ سے زائد ہو چکی‘پنجاب میں انہیں ’’کہو‘‘ اور پشتون پٹی میں ’’خونہ‘‘ کہا جاتا ہے۔
جیسا کہ پچھلے دنوں عرض کیا تھا، چودہ سال ادھر کی بات ہے‘ اسلام آباد کے اطالوی سفارت خانے میں متعین رافیل ڈیلسما نے ایک جزوقتی ملازم محمد اسرار سے کہا کہ وہ اسے اپنے علاقے دیر میں تالاش کے جنگل میں لے جائے۔ پاکستانی نوجوان حیرت زدہ کہ دوور دراز کے اس مقام سے سفارت کار کی دلچسپی کا راز کیا ہے۔ رافیل نے بتایا کہ دیر کی بلندیوں پر زیتون کے جنگل لہلہاتے ہیں۔وہ ان پرتجربہ کرنے کا آرزو مند ہے۔ اسے یقین ہے کہ ان اشجارپہ پھل آئے گا۔ ایک دن اس علاقے کی تقدیر بدل جائے گی۔ تجربہ کامیاب رہا اور پوری طرح۔ وہ ان دیہات میں گیا۔ بزرگوں سے اجازت لی۔ نوجوانوں کو سکھایا اور چند ہفتوں میں سپین سے لائی گئی ہزاروں شاخیں پیوند کر دی گئیں۔ دو تین برس میں ان پہ پھل آنے لگا اور پھل بھی ایسا کہ سبحان اللہ!
یہ سلسلہ جاری رہا۔ پیوند کئے گئے درختوں کی تعداد چھ لاکھ ہو چکی‘ہر ایک شجر سے 40سے 150کلوتک زیتون حاصل ہوتا ہے۔ اس کا اچار اور مربہ بنتا ہے۔ تیل نکالا جاتا ہے اور بازار میں اس کی قیمت دو سے تین ہزار روپے فی کلو ہوتی ہے۔
اس اثناء میں کراچی کی دعا فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر رضوان کو کہیں سے یہ خبر ملی۔ بھاگم بھاگ لوئردیر وہ پہنچے، تالاش کے علاقے میں۔لوگوں کو بتایا کہ ان کے جنگل سونے کے خزانوں سے بھرے ہیں۔ ڈاکٹر فیاض عالم اس کے بعد آزاد کشمیر گئے‘ جس کے پہاڑوں پر کہوکے لاکھوں درخت لہلہاتے ہیں۔ خوش قسمتی سے لکڑی چرانے والوں سے اب تک وہ محفوظ ہیں۔ اس لئے کہ کہو کی لکڑی عمارت سازی اور فرنیچر کے لئے کارگر ہے اور نہ جلانے کے لئے کچھ زیادہ موزوں۔
ڈاکٹر رضوان اپنی سرگرمیوں سے ناچیز کو مطلع کرتے رہے۔ اس سے پہلے وہ تھرپار کرمیں پانی کی تلاش اور طرح طرح کے پھل اگانے کے تجربات کرتے آئے تھے۔ نعمت اللہ خان مرحوم کی معیت میں‘ جن کا نام آتا ہے تو غالبؔ یاد آتے ہیں:
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لیئم
تونے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے
ڈاکٹر رضوان کی مدد سے 92نیوز کے پروگرام ’’مقابل‘‘میں ایک مختصر سی رپورٹ اس موضوع پر نشر کی گئی۔ دو تین دن ہی گزرے تھے کہ انہوں نے مجھے لکھا: زرعی تحقیقاتی مرکز پشاور میں ایک افسر نے بتایا دو دن قبل پختون خواہ کے چیف سیکرٹری نے انہیں طلب کیا۔ ان سے بات کی‘ زیتون کی کاشت اور فروغ کیلئے 30کروڑ روپے کی منظوری دے دی۔
تیس کروڑ روپے؟بار بار اس عبارت کو پڑھا۔ یقین ہی آتا نہیں تھا۔ جی ہاں‘ تیس کروڑ روپے اور انہوں نے یہ کہا نومبر 1999ء میں منتظر تھا کہ کوئی حکومت اس منصوبے کی طرف متوجہ ہو۔ ذرائع ابلاغ میں اب اس کا چرچا شروع ہوا تو آغاز کار ممکن ہو گیا۔
کچھ دن میں ’’بلین ٹری سونامی‘‘ پروجیکٹ کے انچارج اور وزیر اعظم کے مشیر ملک امین اسلم نے ڈاکٹر رضوان کو فون کیا۔ مختلف لوگوں نے انہیں زیتون کی پیوند کاری والی ویڈیو بھیجی تھی۔ ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ ان کے ساتھ وہ لوئر دیر جائیں گے اور تالاش کے باغات کا جائزہ لیں گے۔ یہ بھی بتایا کہ زیتون کی پیوند کاری اب شجر کاری کے عظیم منصوبے کا حصہ ہے۔
برسبیل تذکرہ یہ کہ مختلف مواقع پر‘ مختلف لوگ وزیر اعظم کے اس دعوے کا مذاق اڑاتے رہتے ہیں کہ پختون خواہ میں پانچ برس کے دوران ایک ارب درخت گاڑے گئے۔ ملال ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی کے خوش اطوار امیر سینیٹر سراج الحق بھی اس کارخیر میں خوش دلی سے شامل ہو جاتے ہیں۔ دنیا بھر کے ادارے‘ اس دعوے کو تسلیم کرتے ہیں۔ خاص طور پر ماحولیات کے عالمی ادارے۔ المناک طور پر ہماری روش مگر یہی ہے کہ ملک کی کسی کامیابی کو تسلیم نہ کیا جائے۔ خیر کی ہر خبر کو مسترد کر دیا جائے۔ عمران خان حکومت کی ناکامیاں کم نہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اس کی کوئی سمت ہی نہیں۔ دو برس وہ ضائع کر چکے۔ اندازِ حکمرانی ایسا ہے کہ آئندہ بھی کسی کارنامے کی کوئی امید نہیں۔ جس ملک میں خوف کا عالم یہ ہو کہ آدھے سے زیادہ سرمایہ بینکوں سے نکلوا کر گھروں میں رکھا ہو‘کاروبار اور معیشت کے فروغ کی کیسی اور کتنی امید باقی رہ جاتی ہے؟
مگر یہ بھی کیا ضروری ہے کہ ہر موضوع پر‘ حکومت کی مخالفت ہی کی جائے‘ مذمت ہی کو روا رکھا جائے۔
پوٹھوہار‘ پختون خوا‘ فاٹا‘ بلوچستان اور آزاد کشمیر کے علاوہ گلگت بلتستان میں زیتون کی شجر کاری کا آغاز ہو چکا۔ اندازہ ہے کہ پانچ برس میں 30لاکھ درخت گاڑ دیے جائیں گے۔ راولپنڈی‘ چکوال‘ جہلم اور ٹیکسلا‘ خوشاب کے اضلاع بھی زیتون کے لئے موزوں پائے گئے۔ ان میں 11125ایکڑ کا انتخاب کیا جا چکا۔ امید ہے کہ تین برس تک ان میں ایک ارب 72کروڑ روپے کا زیتون پیدا ہو رہا ہو گا۔ اسی اثناء میں پختون خواہ میں 9391ایکڑ پر کاشت ہونے والی فصل سے ایک ارب 45کروڑ روپے کی آمدن متوقع ہے۔ بلوچستان میں پانچ لاکھ درخت لگائے جائیں گے۔ ایک ارب 161کروڑ کی آمدنی کا تخمینہ ہے۔اسلام اور آزاد کشمیر میں 455ایکڑ اراضی کا انتخاب کیا جا چکا۔7کروڑ آمدن کی امید ہے آئندہ تین برس میں کل ساڑھے تین ارب روپے کی آمدن کا اندازہ ہے۔جون 2012ء میں 1500ایکڑ پر زیتون آگا کراٹلی نے حکومتِ پاکستان کے حوالے کر دیے تھے۔اب ایک سے زیادہ سرکاری ادارے اس مہم میں مصروف ہیں۔ کچھ اور بھی شامل ہونے والے ہیں۔ ڈھنگ کے کسی آدمی کو نگرانی سونپ دی گئی تو غیر معمولی نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔
تفصیلات اور بھی ہیں اور کچھ تو ہوشربا۔پاکستان پہ اللہ مہربان ہے لیکن کیا ہم خود بھی ہیں؟
فرمایا’’قسم ہے طِین کی اور زیتون کی
طور سینا کی اور اس شہر امن(مکّہ) کی
آدمی کو ہم نے بہترین تقویم پر پیدا کیا‘‘
ہاں! مگر یہ کہ خود اپنے ساتھ آدمی کیا کرتا ہے۔ارشاد کیا: اے میرے بندو، تم پر افسوس!

اپنا تبصرہ بھیجیں