زیبرا یا گدھا؟ کیا فرق پڑتا ہے!

شیر بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ببر شیر ایکسپورٹ ہو کر دوبئی پہنچا تو اس علاقے کی لش پش اور چکاچوند دیکھ کر دل ہی دل میں بہت خوش ہوا کہ بھوکا ننگا ماحول چھوڑ کر امراء کی دنیا میں پہنچ گیا ہے اور یہاں اسے بہتر ماحول اور خوراک نصیب ہو گی۔ لیکن جب ناشتے میں اسے کیلے، امرود، مونگ پھلیاں اور کاجو وغیرہ پیش کئے گئے تو وہ حیرت کے مارے گونگا ہو گیا اور دھاڑنا بھی بھول گیا۔ آہستہ آہستہ اوسان بحال ہوئے تو جنگل کا بادشاہ اس نتیجے پر پہنچا کہ ہو نہ ہو یہ کسی بھول چوک کا نتیجہ ہے اور لنچ تک ’’میزبانوں‘‘ کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے گا کہ شیر ببر کو امرود، کیلے،مونگ پھلیاں وغیرہ نہیں بلکہ تازہ گوشت پیش یعنی (Serve)کیا جانا چاہئے لیکن جب ’’لنچ‘‘ میں بھی شیر کو وہی ’’لغویات‘‘سرو(Serve)کی گئیں تو اس پر سکتہ طاری ہو گیا اور اس سے پہلے کہ وہ کوئی صدائے احتجاج بلند کرکے اسے سرکاری ریکارڈ پر لاتا ….خدمت گار واپس جا چکا تھا۔ ڈنر تک شیر پوری طرح تیار تھا کہ اگر اسے ’’سبزی خوروں‘‘ جیسی خوراک پیش کی گئی تو وہ ایک لمحہ ضائع کئے بغیر اس پر شدید ترین احتجاج کرے گا …بھوک ہڑتال کرے گا’’ دھرنا دے گا‘‘ جلسہ کرے گا یا جلوس نکالے گا۔ بھوکا شیر بیتابی سے ڈنر کا انتظار کر رہا تھا کہ ایک بار پھر کیلے، امرود، کاجو، گاجریں ہی اس بدنصیب کا مینیو(مینو نہیں) قرار پائے۔ شیر نے خدمت گار کو گھیر لیا اور غیظ وغضب کے عالم میں دھاڑتے ہوئے پوچھا،’’او بے غیرت! کیا تو نہیں جانتا کہ میں جنگل کا بادشاہ اور گوشت خور شیر ببر ہوں ؟‘‘’’میں سب جانتا ہوں سرکار کہ آپ دال سبزی خور نہیں بلکہ جنگل کے بادشاہ شیر ببر ہیں اور آپ کی خوراک صرف اور صرف گوشت پر مشتمل ہونی چاہئے لیکن شاید آپ اس ’’زمینی حقیقت سے واقف نہیں کہ آپ بندر کے ویزے پر یہاں تشریف لائے ہیں اور ’’دستاویزات ‘‘ کی روشنی میں آپ کو صرف امرود، کیلے، کاجو اور گاجریں ہی پیش کی جا سکتی ہیں‘‘۔قارئین! کہنے سننے کی حد تک یہ لطیفہ ہے لیکن اندر سے اس ’’’حقیقہ‘‘ سے بڑی حقیقت کوئی نہیں کیونکہ گزشتہ نصف صدی میں ہمارے ہاں ایسے بہت سے ’’شیر‘‘ اقتدار میں آئے جو تھے تو شیر لیکن ویزے انہیں ’’بندروں‘‘ کے عطا کئے گئے کیونکہ اس بات کا دارومدار سوفیصد ’’ویزا‘‘ دینے والوں کی مرضی پر رہا کہ وہ کس کو کس کا ’’ویزا‘‘ عطا فرماتے ہیں۔ شیر، بندر کے ویزے پر گدھے ،زیبرے کے ویزے پر کوے، موروں کے ویزے پر کیچوے، کوبروں کے ویزے پر ہمارے ہاں کی تو دنیا ہی انوکھی اور نرالی ہے۔ صرف یہی وجہ ہے کہ میں حکومت، ایم ایم اے مذاکرات، ایم آر ڈی، وردی، ایل ایف او، جمہوریت، ریفرنڈم، پارلیمینٹ، پارلیمینٹ کی بالادستی، آئین، آرٹیکل 58-6 ٹو، بی حلف اور ایسے ہی دیگر ’’فضول، لغو، فروعی اور بے معنی ‘‘ موضوعات پر قلم نہیں اٹھاتا فقط….عوام کے رونے روتا رہتا ہوں۔زندگی میں فقط دو ہی پوائنٹس ہوتے ہیں۔اول: گن پوائنٹ (Gun Point) دوئم: پین پوائنٹ(Pen Point)میرا اور میرے تقریباً چودہ کروڑ ہم وطنوں کا کوئی پوائنٹ (Point) ہی نہیں ….نہ گن نہ پین، نہ کل تھا نہ آج ہے اور نہ آئندہ مستقبل قریب میں دکھائی دیتا ہے۔ ایک قدیم محاورہ کے مطابق’’وہ آیا، اس نے دیکھا اور فتح کر لیا‘‘میرا جدید ترین محاورہ یہ ہے کہ …..’’میں آیا، میں نے کچھ نہیں دیکھا اور مجھے فتح کر لیا گیا‘‘لوگ پوچھتے ہیں اور بے تحاشا اور بے شمار پوچھتے ہیں کہ میں ’’کرنٹ افیئرز‘‘ کو بائی پاس کیوں کر رہا ہوں۔پہلا جواب بلکہ بہانہ …..میں ’’جیو‘‘ کی ریکارڈنگ کے سلسلے میں کراچی گیا ہوا تھا۔ دوسرا اور اصلی جواب ….جہاں شیروں کو بندروں کے ویزوں پر امپورٹ یا ایکسپورٹ کیا جاتا ہو، وہاں لکھنے یا نہ لکھنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟

نوٹ: یہ کالم 9 ستمبر 2003ء کو شائع ہوا لیکن آج بھی تقریباً تازہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں