سب کے لئے لمحہ فکریہ!

سیاسی معاملات سے دانستہ اجتناب کا نتیجہ ہے کہ اس وقت بہت کچھ جمع ہو گیا ہے جو توجہ مانگتا ہے۔ دل چاہتا ہے کہ اب سب کچھ لکھ دیا جائے جو ممکن نہیں ہے۔ اس وقت جو ضمنی انتخابات کا مرحلہ جاری ہے‘ اس میں کچھ غیر معمولی واقعات ہو رہے ہیں۔ جو ڈسکہ میں ہوا ہے اس کا تو تصور تک نہیں کیا جا سکتا تھا۔
تاریخ میں ایک واقعہ رقم ہے کہ فارسی کے مشہور شاعر کہیں سے گزر رہے تھے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک مجمع اکٹھا ہے۔ وہ قریب گئے تو معلوم ہوا کوئی انہی کے اشعار پڑھ رہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جانتے ہو یہ اشعار کس کے ہیں۔ اس نے جواب دیا کہ ایسے اشعار مرے سوا اور کون کہہ سکتا ہے۔ پھر پوچھا کہ آپ کون ہیں۔ اس جواب نے انوری کو حیران کر دیا جب اس شخص نے بڑی ڈھٹائی سے کہا کہ تم نہیں جانتے میں انوری ہوں۔
انوری نے کہا شعر چوری ہوتے تو سنے تھے مگر شاعر چوری ہوتے پہلی بار دیکھا ہے۔ ایسا ہی کچھ ڈسکہ میں ہوا۔ ووٹ چوری ہوتے تو اہل وطن کب سے دیکھتے آئے ہیں مگر یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ووٹوں کے نگہبان بھی چوری کر لئے گئے۔ کوئی بیس سے زیادہ پولنگ سٹیشنوں سے الیکشن کا عملہ چوری کر لیا گیا۔میں یہاں اغوا کرنے کی بات نہیں کہتا۔ جانے ان میں کون کون بہ رضا و رغبت گیا ہو گا۔ ساری رات غائب رہنے کے بعد صبح وہ الیکشن آفس میں نمودار ہوئے۔ کسی کی آنکھ لگ گئی تھی۔ کسی کو دھند میں راہ سجھائی نہ دے رہی تھی۔ کسی کی گاڑی خراب ہو گئی تھی اور فون تو سب کے خراب ہوں گے۔ کیونکہ کسی کے فون سے جواب نہ آ رہا تھا۔ یہ ایسی بڑی واردات تھی کہ الیکشن کمشن کو اعلان کرنا پڑا کہ ایسی بے ضابطگی کے ہوتے ہوئے وہ نتائج کا اعلان نہیں کر سکتے۔ انہوں نے رات بھر کمشنر‘ آئی جی‘ ڈپٹی کمشنر اور چیف سیکرٹری سے رابطے کی کوششیں کیں کہ ہمارے لوگ بازیاب کرائے جائیں۔ آخری بار تین بجے چیف سیکرٹری نے فون سنا اور یقین دلایا کہ ان کا عملہ واپس آ جائے گا۔ پھر وہ فون بھی خاموش ہو گیا۔ الیکشن کمشن نے برملا لکھا کہ ضرور کوئی گڑ بڑ ہے۔ اس لئے تحقیق کے بغیر نتائج کا اعلان ناممکن ہے۔ ادھر ان نتائج کے مطابق جن کا اعلان ہو چکا تھا۔ مسلم لیگ ن جیت رہی تھی۔ لگتا ہے ان چوری شدہ بیلٹ باکس کا نتیجہ کچھ اور ہو گا۔ یونہی تو الیکشن کمشن نے اسے مشکوک قرار نہیں دیا۔
الیکشن کمشن کی اس روش نے بہتوں کو حیران کر دیا ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ یہ ادارہ یوں ڈٹا ہو۔ اس بار تو اس ادارے نے ویسے بھی ایک اور کمال کیاہے جب سپریم کورٹ کے روبرو ڈٹ کر اس موقف کا اعلان کیا کہ سینٹ کے انتخابات کو خفیہ رائے شماری سے مبرا کرنا ہے تو یہ کام صرف آئینی ترمیم سے ہو سکتا ہے یعنی کسی آرڈیننس یا قانون میں ترمیم یا سپریم کورٹ کے فیصلے سے ممکن نہیں ہے۔ کیا پاکستان میں نئی تاریخ جنم لے رہی ہے۔ خدا ہی جانے‘ خوامخواہ خوش گمانی کی ضرورت نہیں۔ سپریم کورٹ کے سامنے اس مقدمے میں تو سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل نے بھی یہ کہہ کرکمال کر دیا کہ عدالت کو سیاست میں نہیں الجھنا چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں عدلیہ بڑی مشکل میں ہے۔ ماہرین قانون کہہ رہے ہیں اس قدر لمبی سماعت کی ضرورت نہ تھی۔ صرف یہ بتانا تھا کہ آیا خفیہ رائے شماری قانون میں ترمیم سے ممکن ہے یا اس کے لئے آئین بدلنا پڑے گا۔
عدالت عظمیٰ کے لئے ایک اور مشکل مرحلہ یہ بھی آیا جب اس کے ایک فاضل جج قاضی فائز عیسیٰ نے ایک اختلافی نوٹ لکھا۔ یہ بھی عدالتی فیصلے کا حصہ ہے‘ اس لئے نقل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے ممبران اسمبلی کو فنڈز الاٹ کرنے کی تحقیق کرنے کے بجائے ایک فاضل جج (یعنی خود قاضی فائز عیسیٰ کو وہ مقدمات سننے سے روک دیا گیا جن میں وزیر اعظم فریق ہوں اور یہ کہ مرے ساتھ بنچ میں شامل جج کو بڑے بنچ میں شامل ہی نہ کیا گیا۔ عدلیہ کے اندر اختلافات ماضی میں کوئی اچھی روایت نہیں قائم نہیں کرتے رہے۔ اس سے محض جگ ہنسائی ہوتی ہے۔ ہندوستان میں بھی ایک ایسا ہی شو شا اٹھ کھڑا ہوا ہے جو باعث تشویش ہے۔ تاہم اس میں اہم بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ دو صدارتی ریفرنسوں سے پیدا ہوا۔ ایک وہ جس میں ایک جج کے خلاف الزامات لگائے گئے تھے اور دوسرا وہ جس میں سپریم کورٹ سے رائے مانگی گئی تھی کہ وہ بتائے آیا حکومت آئینی ترمیم کے بغیر خفیہ رائے شماری ختم کر سکتی ہے۔ حکومت میں ایسی افراتفری تھی کہ اس نے ایک طرف عدالت سے رجوع کیا۔ دوسری طرف آئینی ترمیم اسمبلی میں پیش کی۔ پھر پارلیمنٹ کا یہ اجلاس ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا اور تیسری طرف ایک آرڈی ننس جاری کر کے کام چلانے کی کوشش کی۔
حکومت کی افراتفری کے کئی مناظر صاف بتاتے ہیں کہ سیم پیج والا صفحہ شاید پھاڑ دیا گیا‘ یا کم از کم عارضی طور پر اسے خارج از نصاب کر دیا گیا ہے۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ جس طرح جنرل کیانی نے یہ ہدایت جاری کر دی تھی کہ مشرف صاحب جو الیکشن کرا رہے ہیں اس میں غیر جانبدار رہا جائے۔ مگر یہ ضرور کہوں گا کہ اس حکومت نے فوج اور اسٹیبلشمنٹ کو سیاست میں گھسیٹنے کی اتنی کوشش کی کہ بات حد سے بڑھ گئی۔ایمپائر کی انگلی اٹھنے سے لے کر اب سیم پیچ کی گردان کا نتیجہ یہ نکلا کہ حکومت کی سب خرابیوں کا الزام لوگ اسٹیبلشمنٹ کو بھی دینے لگے۔ یہ تو خیر صاف کہا جاتا ہے کہ وزیر اعظم عوام کے منتخب کردہ نہیں‘ کسی کے لائے ہوئے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ لکھنا تھا کہ اس ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی ذمہ دار بھی لانے والے ہیں۔ حتیٰ کہ سینٹ کے چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں جس طرح اپوزیشن کی واضح برتری کو شکست میں بدلا گیااس کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے‘ یہ سب ان کا کیا دھرا ہے جو اس حکومت کو برسر اقتدار لائے۔ لگتا ہے اب سینیٹ کا الیکشن حکومت کو بغیر کسی مدد کے لڑنا پڑ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم بھاگے بھاگے پھر رہے ہیں۔ اعلان ہو رہا ہے کراچی جائیں گے۔ پشاور بھی جانا پڑ رہا ہے۔ کیونکہ نوشہرہ کے انتخاب نے قلعی کھول دی کہ آخر کھلے عام رائے شماری کی بات کیوں کی جاتی تھی۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ ہلچل مچی ہوئی ہے۔ نوشہرہ میں تحریک انصاف کی مضبوط نشست تھی۔پرویز خٹک کا علاقہ تھا۔ وہاں سے مسلم لیگ ن نے پیٹ ڈالا۔ تو کیا فضا بدل رہی ہے۔ خدا جانے یا کوئی نجومی زائچہ بنانے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ بعض لوگوں کے خیال میں ڈسکہ میں اتنا شور شرابا اس لئے ہوا کہ یوسف رضا گیلانی سے حفیظ شیخ کے مقابلے میں ایک ایک سیٹ کی اہمیت تھی۔ وگرنہ سب تجزیے بتا رہے تھے کہ ڈسکہ والی قومی اسمبلی کی نشست بہت مضبوط ہے۔ البتہ وزیر آباد کی صوبائی نشست پر بعض منفی تجزیے بھی اکا دکا ہی سہی، آ رہے تھے۔
بہت کچھ بدل چکا ہے مگر عوام کا مقدر نہیں بدلا۔ وہ مزید خراب ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پرویز خٹک کے بھائی جو اب زیر عتاب ہیں صاف کہہ رہے ہیں کہ اس حلقے میں ووٹر میرے نہیں عمران خان کے ہیں اور وہ اب بہت بدل چکے ہیں۔ یہ شکست میری وجہ سے نہیں عوام کے بدلے ہوئے تیور کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ ان حالات میں اب بھی سب سے بڑی ذمہ داری حکومت کی ہے۔ ہمت کریں حالات کو بہتر کریں مگر انہوں نے جنگ چھیڑ دی تو اس وقت یہ جنگ کسی پارٹی یا شخص کے خلاف نہیں ہو گی بلکہ عوام کے خلاف ہو گی۔
عام طور پر ایسے مواقع پر کہا جاتا ہے کہ ضرورت ہے جمہوریت کو بچایا جائے کہ اس میں سب کی بقا اور بہتری ہے۔ تاہم اس وقت صورت حال اس سے آگے کی ہے ،کہا جاتا ہے جمہوریت ہی نہیں‘ اس وقت اصل جنگ ملک بچانے کی ہے۔ ہم نے اس ملک کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ ہر ادارہ تباہ ہے۔ مضبوطی کے سارے آثار ہم نے ڈھیلے کر دیے ہیں۔ خدارا یہ بات سمجھ جائیے ،کسی ایک کے لئے لمحہ فکریہ نہیں۔ سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ ہر پارٹی کے لئے‘ ہر فریق کے لئے۔ ہر ادارے کے لئے‘ سب کے لئے۔ اس نازک گھڑی کو بے خیالی سے گزرنا نہیں چاہیے وگرنہ بہت مصیبت ڈھائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں