امکانات

اسلام آباد میں اٹلی کے سفیر نے پچھلے دنوں کہا: پاکستان امکانات کی سرزمین ہے۔ ایسا ہی تھا، 1960ء کے عشرے میں ساری دنیا یہ کہتی تھی۔ پھر ہم باہم الجھنے لگے اور مایوسی کی دلدل میں اترتے چلے گئے۔
اجلال حیدر زیدی مرحوم ان لوگوں میں سے ہیں، سول سروس کی تاریخ میں ہمیشہ جو یاد رکھے جائیں گے۔ شائستگی، اہلیت اور دیانت کی ایک نادر مثال۔ وہ کہ جنہیں ہمیشہ اس اعتماد کے ساتھ ذمہ داری سونپی جاتی کہ منصوبہ اور مقصد تکمیل کو پہنچے گا۔ ایک کے بعد دوسرے حکمراں کو ان پر بھروسہ تھا۔ ریاضت ان کا شعار تھا اور حوصلہ افزائی کا سلیقہ۔
سینیٹر طارق چوہدری اسلام آباد جاتے تو اکثر ان سے ملاقات ہوتی۔ ان کا ہنستا مسکراتا چہرہ آج بھی نگاہوں کے سامنے ہے۔ عمر ستر برس سے اوپر ہو گئی تھی۔ کبھی انہیں تھکے ہوئے نہ دیکھا، کبھی بے ڈھنگ لباس میں نہیں۔مطالعے کا شغف، حالاتِ حاضرہ سے آگاہ۔ ہمیشہ مستعد اور چوکس۔ جنابِ فضل الرحمٰن بھی اکثر موجود ہوتے۔اجلال صاحب کی طرح تحریکِ پاکستان کے کارکن، سلیقہ مند افسر و تردماغ۔ اچانک اجلال صاحب میری طرف مڑے اور کہا: آپ کہتے ہیں کہ ملک میں تین بلین ڈالر کا زیتون پیدا ہو سکتاہے۔ آپ جیسے آدمی کو زیبا نہیں کہ شاعری کرے۔ایک بار کہا: خوبصورت کالموں سے کوئی کم ادراک سیاستدان وزیرِ اعظم نہیں بن سکتا۔ پاسِ ادب سے سامع خاموش رہا۔ افغانستان کے باب میں میری آرا سے وہ متفق نہ تھے مگرتحمل اور سلیقہ مندی کے ساتھ۔یہ بات کہ جنگلی کہو یعنی زیتون کے اڑھائی کروڑ درخت ہیں، فاروق گیلانی مرحوم نے بتائی تھی، جو تب ڈپٹی سیکرٹری تھے۔اگلے برسوں میں پھلے پھولے اور جوائنٹ سیکرٹری کے منصب سے ریٹائر ہوئے۔بائیسویں گریڈ میں اس لیے ترقی نہ پا سکے کہ درباری آباد کے خوگر نہ تھے۔کڑوا سچ بولتے اور قیمت ادا کرنے پہ ہمیشہ آمادہ رہتے۔وہ نتیجہ جو گیلانی مرحوم نے اخذ کیا تھا، اجلال حیدر زیدی جیسا آدمی کیوں اس تک نہ پہنچ سکا۔ پروفیسر احمد رفیق اختر جیسا عبقری جس کی ذہانت کا قائل تھا۔ سول سروس کا المیہ یہ ہے کہ وہ چیزوں کو جوں کا توں رکھنے کی طرف مائل ہوتی ہے۔نئی دنیائیں دریافت کرنے کی خو اس میں کم ہوتی ہے۔جنگلی زیتون کے درختوں کی تعداد اب چھ کروڑ ہو چکی۔برسوں پہلے اٹلی کے ایک سفارتکار کی عنایت سے۔ پیوند کاری کا عمل شروع ہو چکااور الحمد للہ فروغ پذیر ہے۔دیر کے پہاڑی علاقوں سے لے کر پختون خوا، پوٹھو ہار، سندھ اور بلوچستان کے میدانوں تک۔ نئے درخت بھی لگائے جا رہے ہیں۔کسی طرح بھی پاکستانی زیتون کا معیاربلاد الشام اور اٹلی سے کم نہیں۔ بلادالشام کے زیتون کو یہ فخر حاصل ہے کہ سرکارؐ کے دسترخوان تک رسائی پائی۔ کھجور، انجیر، انگور اور جو کی طرح یہ آپؐ کی پسندیدہ غذاؤں میں سے ایک تھا، اب جنہیں سپر فوڈ کہا جاتاہے۔
تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ تھرپارکر کے بعض مقامات پر بھی کامیابی سے زیتون کی کاشت کی گئی۔ کوئی دن جاتا ہے کہ اپنی ضرورت کا سارا زیتون پاکستان خود پیدا کر رہا ہوگا۔ممکن ہے، ایک ایسی سحر بھی طلوع ہو جب یہ ہماری تمام تر ضرورتوں کا کفیل ہو جائے۔پرسوں پرلے روز وزیرِ اعظم نے اعلان کیاکہ دریائے سندھ کے دائیں کنارے پر ہر کہیں زیتون کے پودے اگائے جا سکتے ہیں۔لاکھوں نہیں، کروڑوں پودے۔ اور بھی اچھی خبریں آئی ہیں۔ دعا فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر فیاض نے بتایا کہ تھر کے ریگستان میں کھارے پانی سے سرسوں اگانے کا تجربہ کامیاب ہو گیا ہے، پوری طرح کامیاب۔ کچھ کھیتوں کی تصاویر انہوں نے بھیجی ہیں۔علی محمد لونڈ نے دس ایکڑ پر جو فصل بوئی، اندازہ یہ ہے کہ چار سو من پیداوار حاصل ہوگی۔کراچی میں سرسوں کا تیل سات سو روپے فی کلو کے حساب سے بکتا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے آمدن کا تخمینہ لگایا ہے: اسّی ہزار سے ایک لاکھ روپے فی ایکڑ۔ علی محمد اس سے پہلے دیوی یعنی جنگلی کیکر کی جھاڑیاں کاٹ کر بیچا کرتا۔ بمشکل آٹھ سے دس ہزار روپے ماہانہ آمدن۔تھر میں عام طور پر مشہور ہے کہ زمین کا پانی زہریلا ہوتاہے اور فصل نہیں اگاتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں صرف بارانی زراعت ہوتی ہے۔ مون سون کے موسم میں لوگ گوار اور باجرہ کی فصلیں کاشت کرتے ہیں۔ بارشیں ہر سال مناسب مقدار میں نہیں ہوتیں۔ ہر کچھ سال کے وقفے سے قحط اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں: پانچ برس پہلے زمین سے پانی نکال کر کاشت کاری کا منصوبہ پیش کیا تو اکثر لوگوں نے حوصلہ شکنی کی۔کہا کہ بڑی بڑی این جی اوز تھر میں کئی دہائیوں سے کام کر رہی ہیں۔ آخر ان میں سے کسی کو یہ بات کیوں نہ سوجھی؟ڈاکٹر صاحب ڈٹے رہے۔ علی محمد کی زمین پر اب سرسوں پھوٹ رہی ہے۔ صرف یہی ایک نہیں، تھر کی تحصیلوں کلوئی، گپلو، نگر پارکر اور ڈاہلی میں دعا فاؤنڈیشن کے طفیل چوالیس زرعی فارم وجود میں آچکے۔
سرسوں ہی نہیں، گندم، کپاس، پیاز، بھنڈی، کدو، توری،کھیرا، ککڑی، تربوز اور خربوزے کاشت کیے جا رہے ہیں۔ جنگلی تربوز تو ہمیشہ سے تھا، جس سے مسافر پیاس بجھایا کرتے۔ جنگلی تربوز نہ ہوتا تو ان ویرانوں میں سفر بہت مشکل ہو جاتا۔ قدرت کی منشا یہ ہے کہ میدان ہی نہیں، صحرا بھی آباد ہوں۔ اس لیے ان ویرانوں میں وہ نخلستان آباد کرتی ہے۔بارشیں برساتی اور سخت جانوں میں امید زندہ رکھتی ہے۔ تحصیل ڈاہلی کے گوٹھ سخی سیار میں کھجور اور انار ہیں، گیہوں اور زیتون کے پودے بھی۔ یہ تین برس پہلے گاڑے گئے۔ کھجور پہ پچھلے سال پہلی بار پھل آئے، چھوٹے سائز کے تھے۔امید ہے کہ آئندہ برسوں میں معمول کے ہوں گے۔ بیر تو بہت ہی شاندار ہیں اور ذائقہ بہت عمدہ۔ آم، خربوزے، تربوز اور کھجور کی طرح بیری بھی تیز دھوپ مانگتی ہے۔ تھر کی دوسری بڑی تحصیل ڈاہلی کے ایک گوٹھ میں، جو بھارت کی بارڈ ر سے منسلک ہے، دعا فاؤنڈیشن نے ایک گوٹھ بگل میں مچھلیوں کا ایک فارم بھی بنایا ہے۔ اس میں تلاپیا مچھلی پرور ش پا رہی ہے۔ امسال اسپغول اور سفید کھیرا بھی کاشت کیا گیا۔ اب دوسری این جی اوز بھی زراعت کی طرف متوجہ ہیں۔ این جی او ز کی غالب اکثریت مٹھی، اسلام کوٹ ہی کو تھر سمجھتی ہے۔ صحرا کی دو بڑی تحصیلیں چھاچھرو اور ڈاہلی ہیں۔ چھوٹی سی دعا فاؤنڈیشن کے سوا کبھی کسی این جی او نے یہاں قدم نہ رکھا۔
خبر یہ آئی تھی کہ گزشتہ ایک برس کے دوران تھر کے ریگستان میں 125افراد نے خودکشی کر لی۔ اس سے پہلے کبھی ایسا نہ ہوا تھا۔ اپنی جان لینے والوں میں بڑی تعداد خواتین کی ہے۔ ان میں بھی اکثریت پندرہ سے تیس برس کی خواتین۔ صحرا کے مکین خواب دیکھتے ہیں اور متشکل ہونے کی کوئی صورت نہیں پاتے تو مایوسی کی نذر ہو جاتے ہیں۔ حکومت ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے، جو خود نا آسودہ ہیں، دولت اور اقتدار کے بھوکے۔دوسروں کی پرورش وہ کیا کریں گے، جوبھوکے درندوں کی مانند ہیں، آصف علی زرداری جیسے۔
اسلام آباد میں اٹلی کے سفیر نے پچھلے دنوں کہا: پاکستان امکانات کی سرزمین ہے۔ ایسا ہی تھا، 1960ء کے عشرے میں ساری دنیا یہ کہتی تھی۔ پھر ہم باہم الجھنے لگے اور مایوسی کی دلدل میں اترتے چلے گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں