لاہور کی مال روڈ سے پوچھ لو

اسرائیل کو تسلیم کرنے کی جس نے بھی جسارت کی، المناک انجام سے دوچار ہو گا۔ اینکر منصور علی خاں نے سچ کہا ’’لاہور کی مال روڈ سے پوچھ لو۔‘‘
اب ایک اور آواز اٹھی ہے۔ ایک نوجوان اینکر،جو کچھ عرصہ پہلے تک پاکستان میں جگمگایا کرتا۔ اب ایک اسرائیلی ٹی وی پہ نمودار ہوا۔فرمایا: پاکستانی عوام تیار ہیں۔ پاکستان اور اسرائیل میں کوئی تلخی،تنازعہ اور تصادم نہیں۔ ارشاد کیا: عمران خان ہی فیصلہ کر سکتا ہے کہ معتدل مزاج ہے۔ تجویز کیا کہ خان کی مدد کی جائے۔ بس ایک دھکے کی ضرورت ہے۔باہر سے لگے اور اندر سے بھی۔صیہونی ریاست چین،ترکیہ اور عرب ممالک سے تعاون طلب کرے۔ کبھی اس چھوکرے نے چلّا چلّا کر کہا تھا: کارگل کی جنگ میں اسرائیل بھارت کی پشت پر کھڑا تھا۔
پاکستان کے اندرونی معاملات میں چین کبھی مداخلت نہیں کرتا۔ چین خوب جانتا ہے کہ پاکستانی عوام کبھی آمادہ نہیں ہوں گے۔مفت کی نفرت وہ کیوں مول لے گا۔ ترکیہ نے اگرچہ اسرائیل کو بہت پہلے مان لیا تھا، اب ان کے درمیان مفاہمت نہیں، مخاصمت ہے۔ عالمِ اسلام میں اردوان واحد لیڈر ہے، جس نے بار بار صیہونیوں کی ناک رگڑی۔
اب یہ کھلا راز ہے کہ عرب ممالک صیہونی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ حکومت اگرچہ انکار کرتی ہے اور ہمیشہ کرتی رہے گی لیکن فضا میں تیرتے بادل کی طرح دیکھنے والی ہر آنکھ خوب دیکھتی ہے۔
امارات، بحرین، سوڈان، مصر اور کئی دوسرے عرب ملک پہلے ہی مان چکے۔ عربوں کی خواہش یہ ہے کہ پاکستان بھی تسلیم کر لے تو ان کے راستے کی آخری نفسیاتی دیوار بھی گر جائے۔ اس لیے کہ اسرائیل کو اگر اندیشہ ہے تو پاکستان اور ترکیہ سے۔ عرب ملکوں میں سے اب کوئی ایک بھی ایسانہیں، جو بھرپور عسکری قوت کا حامل ہو۔ صدا م حسین کی افواجِ قاہرہ خاک میں مل چکیں۔ لیبیا، شام، عراق اور مصر خانہ جنگی میں مبتلا ہیں۔ عالمِ عرب پہ وہ عہد طلوع ہو چکا، جس کے بارے میں اللہ کے آخری رسولؐ نے کہا تھا ’’ویل للعرب‘‘ بربادی ہے عربوں کے لیے۔
عرب بہت پہلے تھک ہار چکے تھے۔پچپن برس ہوتے ہیں، کچھ اہم اطلاعات ملیں تو ایوب خاں نے شاہ حسین کے کان میں سرگوشی کی، اردن کے شاہ حسین۔پاکستانی صدر کو صدمہ ہوا، جب پتہ چلا کہ اس نے تل ابیب کو بتا دیا۔ باربار ذلت اٹھانے کے باوجود شاہ حسین اسرائیلی خوشنودی کے طالب رہا کرتے۔ کئی خفیہ دورے کیے۔ شریفِ مکّہ کا فرزند، جس کے بارے میں اقبالؔ نے کہا تھا
یہی شیخِ حرم ہے جو چراکر بیچ کھاتا ہے
گلیمِ بوذر، و دلقِ اویس و چادرِ زہراؑ
اور یہ کہ
بیچتا ہے ہاشمی ناموسِ دینِ مصطفیؐ
خاک و خوں میں مل رہا ہے ترکمانِ سخت کوش
پورے ایک سو ایٹمی میزائل اسرائیل نے نصب کر رکھے ہیں، جن کا رخ عالمِ اسلام کے اہم شہروں کی طرف ہے۔ ان میں دو پاکستانی ہیں۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے، اسرائیل جس سے ڈرتا ہے۔ ہم نے اپنا ایٹم بم بھارت کے لیے بنایا تھا۔ 1974ء میں بھارت اگر ایٹمی دھماکہ نہ کرتا توپاکستان سویا رہتا۔ اپنے سائنسدانوں کی بہترین ٹیم اور دو عرب ممالک کی مدد سے پاکستان کا ایٹمی پروگرام 1983ء میں مکمل ہوا۔ کہاجاتاہے کہ عربوں سے جو روپیہ پاکستان کو ملا، اس میں سے کچھ بھٹو نے بیرونِ ملک بھیج دیا۔کہا جاتاہے کہ اس پر ان کی اولاد میں کشمکش بھی رہی۔
بھارت کا انڈیمان جزیرہ تین ہزار کلومیٹر دور ہے۔ ہمارے شاہین میزائل کی حد یہی ہے۔ اتفاق سے اسرائیل بھی اتنا ہی دور ہے۔ صیہونی شہ دماغ پریشان ہوتے ہیں کہ 1948ء ،1967ء اور 1973ء کی جنگوں میں پاکستان نے عربوں کی مدد کی تھی۔ پاکستان اسرائیل پہ یلغار نہیں کرے گا،الّا یہ کہ وہ حجازِ مقدس کا رخ کرے۔
پانی یہیں مرتا ہے۔
چودہ سو برس پہلے یہودیوں کی ایک بڑی آبادی مدینہ میں تھی۔ غزوہ ء خندق کے ہنگام جب دس ہزار مشرک مدینہ منورہ کے باہر پڑاؤ ڈالے تھے، یہودی قبائل سازش میں شریک ہوئے۔ وہ قتل ہوئے اور بھگا دیے گئے۔ سینکڑوں میل دور خیبر میں پناہ لی۔ قدوسیوں کے لشکر نے انہیں جا لیا۔ صبح سرکار? نے یہودی قلعوں پہ نظر کی توفرمایا ’’بری ہے ڈرائے ہووں کی سحر‘‘
صیہونیوں کی ہر نسل نے ہیکلِ سلیمانی اور مدینہ منورہ کا خواب دیکھا ہے۔دجلہ و فرات کی سرزمینوں تک عظیم تراسرائیل۔
یہ خواب کبھی پورا نہ ہوگا۔ یہ سرکارؐ کاارشاد ہے۔
صیہونی بہت طاقتور ہیں۔ ایک صدی ہوتی ہے، جب اقبالؔ نے کہا تھا ’’فرنگ کی رگِ جاں پنجہ ء یہود میں ہے۔‘‘فرنگ ہی نہیں، امریکہ بھی۔ مالیاتی اور ابلاغی اداروں پر وہ مسلط ہیں۔ لاس اینجلس اور نیویارک کے یہودیوں کی مالی سرپرستی کے بغیر کوئی امریکی امیدوار وہائٹ ہاؤس میں داخل نہیں ہوتا۔
اسی لاکھ آبادی کی چھوٹی سی ریاست کو واشنگٹن تین ارب ڈالر سالانہ دیتا ہے۔ کیامغربی رائے عامہ یہودیوں کی ہم نفس ہے؟ جی نہیں، بالکل نہیں۔ صدیوں سے وہ انہیں بھگتتے آئے ہیں۔ریفرنڈم ہو تو اکثریت ان کے خلاف رائے دے۔
دوسرے اپنی اداؤں کے خود ذمہ دار ہیں۔ مسلم برصغیر اور ترکیہ میں مسلم امہ کا تصور ہمیشہ زندہ رہا اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔ 1920ء کے عشرے میں ہم نے تحریکِ خلافت میں خون پسینہ ایک کیا تھا۔ 1935ء میں اقبالؔ فلسطین گئے تھے۔ وہ آدمی، گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے، جو فکرِ سخن کیا کرتا۔ تب، آتش جواںتھا۔اس نے کہا تھا: فلسطین کے لیے میں جیل جانے پر آمادہ ہوں۔ 1948ء میں قائدِ اعظم نے چیکو سلواکیہ سے ڈیڑھ لاکھ رائفلیں خرید کر فسلطینیوں کو دیں۔
دوبار اسرائیلی طیاروں نے کہوٹہ کا قصد کیا۔ دونوں بار وہ بھارت میں اترے۔ اسرائیلی جہازوں پر بھارتی طیاروں کا رنگ و روغن اور نشان چڑھائے گئے۔ دونوں بار پاکستان نے انتباہ کیا۔ دونوں بار وہ اپنے بل میں جا گھسے۔
اب کی بارمہم دوسری ہے۔ اخبار نویسوں اور اگر ممکن ہو تو کچھ مولویوں، مبصروں اور سیاستدانوں کو خرید اجائے۔ شاہین صہبائی نے لکھا ہے کہ نواز شریف کے دونوں فرزند ڈونلڈ ٹرمپ کے یہودی داماد کشنرسے ملاقات کی بے تابانہ کوشش کرتے رہے۔ مریم نواز نے بعض ممتاز عمائدین کو تحفے بھجوائے۔ پنامہ کیس کے ہنگام لندن میں شریف خاندان کی قانونی معاونت کرنے والا ایک مشہور یہودی قانون دان تھا۔اینکروں کے علاوہ اسرائیل کی حمایت میں بروئے کار آنے اور بھاگ جانے والے جنرل امجد شعیب ایک پراپرٹی ٹائیکون کے ملازم ہیں۔بیرونِ ملک اس آدمی کے آٹھ دس بلین ڈالر پڑے ہیں۔ جناب جسٹس جاوید اقبال اور جناب شہزاد اکبر شاید جانتے ہوں۔
عمران خاں اسرائیل کو نہیں مانتے۔ ایک کے بعد دوسرا، دوسرے کے بعد تیسرا اور تیسرے کے بعد چوتھا اینکربروئے کار آیا ہے۔کس نے اکسایا؟ کس نے تھپکی دی؟ کس نے ان کے سر پہ سایہ کیا؟
اسرائیل کو تسلیم کرنے کی جس نے بھی جسارت کی، المناک انجام سے دوچار ہو گا۔ اینکر منصور علی خاں نے سچ کہا ’’لاہور کی مال روڈ سے پوچھ لو۔‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں