بیجنگ کی مسکراہٹ … (2)

مئی2014ء سے وزیراعظم بھارت کا عہدہ سنبھالنے سے اب تک نریندر مودی اٹھتے بیٹھتے پاکستان کو سبق سکھانے‘ کبھی آزاد کشمیر اور کبھی گلگت بلتستان پر قبضہ کرنے کی گیدڑ بھبکیوں کو مسلسل راگ کی صورت میں الاپتے رہنا اپنی وزارتِ عظمیٰ کا سب سے اہم فرض سمجھے ہوئے ہیں جبکہ دوسری جانب چین سے چھترول کے بعد اب وہ یہ بھاشن دینے لگے ہیں ”دیکھو بھئی! امن سب سے بہتر ہے جو قومیں دوسروں کے علا قوں پر قبضے کرتی ہیں ان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لو‘ وہ یا تو مٹ جاتی ہیں یا ایک کونے میں لگا دی جاتی ہیں‘‘۔ یہ باتیں اس ملک یعنی بھارت کا وزیراعظم کر رہا تھا جس نے پاکستان، چین، نیپال، بھوٹان، بنگلہ دیش اور میانمار کے علا قوں کو زبردستی ہتھیا رکھا ہے، جس کے اپنے تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ سرحدی تنازعات چل رہے ہیں۔

نریندر مودی کی نیمور میں امن پسندی کا بھاشن دیتے ہوئے کی جانے والی تقریر کو محفوظ رکھنا چاہئے کیونکہ اپنے تمام ہمسایہ ممالک کی سرحدوں پر جبری قبضے کرنے والا بھارت چین کی جانب سے سبق سکھائے جانے کے بعد اب اپنے جال میں آیا ہی چاہتا ہے۔ ہمالیہ کی گیارہ ہزا رفٹ بلندی پر کی جانے والی تقریر پر پاکستان کے دفتر خارجہ سے التماس ہی کی جا سکتی ہیں کہ وہ نیمور میں کئے گئے اس خصوصی خطاب میں ”Expansionism‘‘ کے الفاظ کو سامنے رکھتے ہوئے دنیا سے اپیل کریں کہ وہ نریندر مودی کو اسی کی تقریر سنا کر مجبور کریں کہ اب وہ توسیع پسندی کا خواب دیکھنا بند کرکے ڈویلپمنٹ کی طرف توجہ دے۔

بھارت میں انتہا پسندی اور مسلمانوں سے نفرت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ وہاں کا ہر مسلمان انہیں اب پاکستانی سپاہی دکھائی دیتا ہے، مار چین سے پڑ رہی ہے اور غصہ وہ کشمیری اور بھارتی مسلمانوں پر نکال رہے ہیں۔ آئے دن کسی بھی راہ چلتے مسلمان کو اکیلے میں دیکھ کر چار پانچ راشٹریہ سنگھ کے غنڈے لاٹھیوں، چاقوئوں، چھریوں اور تلواروں سے اسے قتل کر کے ‘جے ہند‘ کے نعرے لگاتے ہوئے آرام سے چل دیتے ہیں اور کوئی قانون ان کو پوچھنے والا نہیں۔ جنتا پارٹی کے دوسرے اور تیسرے درجے کے لیڈران کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ ادھر نریندر مودی نے پاکستان کو کوئی دھمکی دی ادھر ساری کابینہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت بھارتی میڈیا پاکستان پر چڑھ دوڑا کہ جیسے ابھی پاکستان پر حملہ کر دیا جائے گا۔ گزشتہ ایک برس سے نریندر مودی اپنی قوم کو خوشخبریاں سنا رہا تھا کہ بہت جلد وہ پاکستان کو ایسا سبق سکھانے جا رہا ہے کہ اس سے بھارت کے وہ علا قے‘ جن پر پاکستان نے ”قبضہ‘‘ کر رکھا ہے‘ چھین لیے جائیں گے۔ جب بھاشا ڈیم کی تعمیر کا آغاز ہوا تو مودی نے ڈرم پیٹنا شروع کر دیے کہ یہ بھارت کا علاقہ ہے اور اس متنازع علاقے میں کوئی بھی بڑا تعمیراتی منصوبہ شروع نہیں ہونے دیا جائے گا۔ گزشتہ سال چودہ اگست کو کی جانے والی مودی کی وہ تقریر سامنے رکھیں جس میں اس نے چہرے پر زہریلی مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا تھا: بلتستان اور کشمیر کے جو لوگ بھارت سے رابطے کر رہے ہیں‘ وہ مت گھبرائیں‘ میں جلد ان کی مدد کیلئے آئوں گا۔ مودی کے دماغ میں گلگت بلتستان اور اقصائے چن ایک کانٹے کی طرح چبھ رہا ہے اور اس کی بھرپور کوشش ہے کہ کسی طرح ان علاقوں کو ہڑپ کر لے، اسی لیے وہ کبھی کھلی جنگ تو کبھی سرجیکل سٹرائیک کی دھمکیاں دیتا چلا آ رہا تھا۔ 

بھارت کے مشہور صحافی جاوید نقوی نے گلوان میں چین اور بھارت کی حالیہ جھڑپوں میں انڈین فوجیوں کی درگت کے حوالے سے اپنے ایک مضمون میں بھارت کے سیا ستدان اور کالم نگار سدھیندر کلکرنی کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ پاکستان ہم سے پانچ درجے کم طاقت رکھنے والا ملک ہے اور اس کے ساتھ ہونے والی جنگوں، جھڑپوں اور کولڈ وار میں بھارت کے کئی ہزار فوجی اور دوسرے سکیورٹی اداروں کے اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں‘ اس کے با وجود اب تک ہم پاکستان کی ایک انچ زمین پر بھی قبضہ نہیں کر سکے مگر دوسری طرف اچھل اچھل کر دعوے کیے جا رہے ہیں کہ چین سے بہت جلد اقصائے چن چھین لیں گے، چین کی فوج اور اسلحہ پاکستان سے کئی گنا زیادہ ہے‘ اگر بھارت کے پاس اتنی طاقت ہے تو ابھی حال ہی میں قبضے میں لی گئی گلوان وادی کو چھڑوا کر دکھائے۔

چین کے سامنے بڑھکیں مارنے والے بھارت کی بے بسی دیکھنے لائق ہے کیونکہ اقصائے چن کے قریب ایک گائوں دربوک شیوک سے دولت بیگ اولڈی‘ جہاں بھارتی فوج کی ایک بریگیڈ تعینات ہے‘ تک ہر قسم کا اسلحہ، راشن اور فوجی دستوں کی آمد و رفت کیلئے بھارت کی نو تعمیرکردہ سڑک کو چین اپریل تک خاموشی سے مانیٹر کرتا رہا‘ جب اس نے دیکھا کہ سڑک کی تعمیر مکمل ہو گئی ہے اور اطلاعات موصول ہوئیں کہ بھارت نوبرا ویلی اور قراقرم پاس کی طرف سے کسی ”سٹرائیک‘‘ کا ارادہ رکھتا ہے تو چین نے چپکے سے آگے بڑھ کر بھارتی فوج کی اس سپلائی لائن پر اپنا فوجی بوٹ رکھ دیا جس نے اس کی چیخیں نکال دیں اور اب وہ انتہائی بھونڈے طریقے سے امن کا واویلا کرتے ہوئے توسیع پسندی چھوڑ کر چین کو ڈویلپمنٹ کی دعوت دے رہا ہے۔

لداخ میں چین اور بھارت کی فوجی جھڑپوں یا ممکنہ جنگ کی اصل بنیاد وہ چھوٹا سا گائوں اور اس سے ملحقہ اقصائے چن اور اسے چھو کر گزرنے والی دولت بیگ اولڈی تک جانے والی وہ سڑک بنے گی جس پر بھارت کو ناز تھا کہ قراقرم پاس سے صرف 8 کلومیٹر دور‘ بھارت کی اس فوجی بیس کی انتہائی بلندی کا فائدہ اٹھا کر وہ چین اور پاکستان کو بے بس کر دے گا۔ اس علاقے کے حوالے سے چین کا ماتھا اس وقت ٹھنکا جب اسے معلوم ہوا کہ دولت بیگ کو فوجی کیمپ میں تبدیل کر کے یہاں ایک کمپنی کے بجائے بھارت پوری بریگیڈ لا کر یہاں مختلف سڑکیں تعمیر کر کے اپنے اندرونی فوجی روڈ نیٹ ورک سے ملانے جا رہا ہے۔ جب چین نے یہ بھانپ لیا تو اس نے وقت ضائع کیے بغیر اپنے پانچ ہزار فوجی گلوان وادی کے افقی پہاڑوں پر لا بٹھائے اور اس طرح دربوک، شیوک، دولت بیگ اولڈی سے گلوان کو گزرنے والے راستوں پر قبضہ کر کے بھارتی فوج کی بریگیڈ اور ایئر سٹرپ تک کہیں بھی کمک پہنچنے کا زمینی راستہ مکمل طور پر بلاک کر دیا، جس سے بھارت کے پاس سوائے فضائی ذرائع کے اور کوئی چارہ نہ رہا۔ بس یہ سمجھ لیجئے کہ یہ بھارتی بریگیڈ اب ایک بے بس تماشائی بن کر رہ گئی ہے۔ بھارت اس قبضے کو چھڑانے کیلئے پہلے دھمکیاں دیتا رہا پھر فوجی طاقت استعمال کرنے کی دھمکی دی جس کے جواب میں چین نے بغیر بارودی ہتھیار وں کے‘ بھارت کی 13 بہار رجمنٹ کے کرنل سمیت چودہ فوجی، 12 بہار رجمنٹ کے 3، توپ خانے کے 4 اور مائونٹین سگنل کا ایک فوجی ہلاک کر دیا۔ بھارت جھوٹ بولتا رہا کہ اس کے صرف 13 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ گلگت بلتستان کاایک چھوٹا سا حصہ افغانستان سے بھی ملتا ہے اور خدشہ ہے کہ مستقبل میں بھارت کا سب سے بڑا ٹارگٹ یہی ہو گا۔ میرے خیال میں پاکستان کو کسی بھی وقت اس محاذ کے اچانک کھلنے کا انتظار کرنے کے بجائے وہاں اپنی موجودگی کا بھرپور انتظام کرنا ہو گا جس کیلئے ہوائی مستقر پہلے سے بھی زیادہ کار آمد اور آسان بنانا ہوں گے ورنہ سیاچن جیسا ناقابل تلافی حادثہ ہو سکتا ہے۔ اگر نقشہ اٹھا کر دیکھیں تو افغانستان کی سرحد سے ملحق گلگت بلتستان کے اسی علاقے کی وجہ سے بھارت بین الاقوامی فورمز پر خود کو افغانستان کا ہمسایہ ملک بتاتا ہے۔ (ختم)

اپنا تبصرہ بھیجیں