جرنیل بھی کبھی سپاہی تھا

میاں نواز شریف‘ ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف اور فوج دشمن بیانئے کے پرجوش حامی دانشور و تجزیہ کار ان دنوں ایک نیا چورن بیچ رہے ہیں‘جی ہم توفوج کے مداح ہیں‘ سیاچن کے برف پوش پہاڑوں ‘ وزیرستان‘ اور تربت میں مادر وطن پر جانیں نچھاور کرنے والے سرفروش ہمارے سر کا تاج ہیں مگر آئی ایس آئی کے سربراہ اور چیف آف آرمی سٹاف کی کردار کشی ہمارا حق ہے‘ادارے اور فرد میں فرق روا رکھنا چاہیے ؎
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
معلوم تاریخ میں مجھے کسی ایسی فوج کا علم نہیں جس کے سربراہ اور کمانڈر کو ادارے سے الگ دیکھا اور سمجھا گیا ہو‘ جس زمانے میں جنگیں تلواروں اور نیزوں سے لڑی جاتی تھیں اورمیدان جنگ میں فوجوں کی قیادت بادشاہ سلامت خود‘ اس کا کوئی قریبی عزیز اور وفادار کمانڈر کیا کرتا تھا‘ مخالف فوج کی سرتوڑ کوشش یہی ہوتی تھی کہ سپہ سالار اور فوج کی قیادت کرنے والے شخص کو موت کے گھاٹ اتارنا ممکن نہیں تو زخموں سے چور کر کے سپاہ کے حوصلے پست اور پرجوش سپاہیوں کے ہاتھ شل کئے جائیں وہ ہمت ہار کر ہتھیار ڈال دے یا راہ فرار اختیار کرے ۔پارٹی سربراہ کی نااہلی‘ گرفتاری اور رضا کارانہ جلاوطنی کے بعد دھن‘ دولت‘ ذات برادری اور علاقائی‘نسلی ‘لسانی تعصبات کو بروئے کار لا کر الیکشن تو لڑا جا سکتا ہے‘ کمانڈر کے بغیر جنگ لڑنا ماضی میں ممکن تھا نہ عہد جدید میں ممکن ہے۔ سپہ سالار کو فوج سے الگ تھلگ کر کے جنگ جیتنا دیرینہ اور صدیوں سے آزمودہ نسخہ ہے‘ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے۔ پروپیگنڈہ مہم توپ و تفنگ‘ اور ٹینکوں سے زیادہ موثر اور کارگر ہتھیار ہے کسی فوج کے سپاہیوں کے جذبہ جہاد وسرفروشی کوپست اور سرد کرنے کے لئے انہیں یقین دلانا کافی ہے کہ جس کمانڈر کے حکم پر تم جانیں دینے کے لئے تیار بیٹھے ہو وہ خود غرض‘مفاد پرست‘ آئین و قانون شکن اور ریاست سے غیر مخلص ہے۔ وہ تمہیں وطن نہیں ذاتی مفاد پر قربان کر رہا ہے۔ صدام حسین اور معمر القذافی کے بعد عراق اور لیبیا کی فوج تحلیل ہوئی نہ اس کے ہتھیاروں میں کیڑے پڑے‘ دونوں ممالک کی افواج
مضبوط قیادت سے محروم ہونے کے بعد ذہنی خلفشار اور اندرونی انتشار سے دوچار ہوئیں‘ دیکھتے ہی دیکھتے خوشحال و مستحکم ریاستیں سیاسی ابتری اور معاشی بدحالی کا شکار ہو گئیں۔
نیو کلیر پاکستان کی مضبوط اور جذبہ جہاد سے سرشار فوج کے سپاہیوں اور افسروں میں بے یقینی پیدا کرنے کے لئے ہی ہمارے دشمن فوجی قیادت کو نشانہ بناتے اور اپنے مقاصد حاصل کرتے ہیں۔ جس طرح مذہب دشمن عناصر مذہبی شعائر سے روگردانی اور مذہب سے گلو خلاصی کے لئے حیلے بہانوں سے کام لیتے اور مولوی کو گالی دے کر مذہب کے خلاف خبث باطن ظاہر کرتے ہیں‘ بالکل اسی طرح فوج کو براہ راست ہدف تنقید بنا کر آئین‘ قانون اور عوامی غیظ و غضب کی زدمیں آنے کے بجائے ہمارے مفاد پرست سیاستدان اور ان کے ہمنوا دانشور و تجزیہ کار جرنیلوں کے گریبان پر ہاتھ ڈالتے ہیں کہ نسبتاً آسان ہے اور حصول مقصد کا مفید طریقہ‘ سب جانتے ہیں کہ یہ جرنیل اپنے جاگیردار ‘ تاجر‘ سرمایہ دار اور وڈیرے باپ کے دھن دولت‘ اثرورسوخ اورلسانی‘نسلی‘ قبائلی عصبیت کے بل بوتے پر نہیں خدا داد ذہانت‘ جذبہ ایثار و قربانی‘ معرکہ آرائی ‘وطن پر جان نچھاور کرنے کی اُمنگ کی بنا پر مختلف مدارج طے کرتے‘ نوجوان لیفٹنوں ‘ کیپٹنوں‘ میجروں کی طرح جان کی بازی لگاتے ہوئے یہاں پہنچا ‘یہ بھی کل سپاہی اور جونیئر افسر تھا اور آج کے سپاہیوں جونیئر افسروں میں سے بھی کوئی نہ کوئی جرنیل کور کمانڈر اور سپہ سالار ہو گا۔ اسے جرنیلی وراثت میں ملی نہ سربراہی ماں باپ کی طرف سے نامزدگی یا وصیت کے طفیل۔ جرنیل بھی کبھی سپاہی تھا۔
میاں نواز شریف اور ان کی سپتری مریم نواز کو جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کے پیشرو و ساتھی جرنیلوں میں یہ ساری خرابیاں اب کیوں نظر آ رہی ہیں؟انہیں قدرت اور عوام نے تین بار دو تہائی اکثریت کے ساتھ ملک کا
اقتدارسونپا‘ کبھی ایک بار بھی انہوں نے سنجیدگی سے خرابیاں دورکرنے کی کوشش کی؟۔ حتیٰ کہ پچھلے سال مدت ملازمت میں توسیع کے موقع پر بھی وہ مہر بلب غیر مشروط حمائت پر کمربستہ رہے‘ کیا اس وقت انہیں علم نہ تھا کہ ان کی وزارت عظمیٰ‘ بلوچستان کی حکومت کوکس کے حکم پر چلتا کیا گیا؟ کیا دوران اقتدار انہوں نے ایک بار بھی انتخابی اصلاحات پر توجہ دی‘ انہیں چھ بار آرمی چیف نامزد کرنے کا موقع ملا کسی ایک آرمی چیف کو انہوں نے سنیارٹی کی بنیاد پر مقرر کیا ہو یا کسی ایک کے ساتھ ان کی بنی ہو؟اب مگر انہیں اپنی ایک بھی غلطی یاد نہیں دوسروں کی غلطیاں ہی غلطیاں یاد آ رہی ہیں‘ ع
کب کھلا تجھ پر یہ راز ‘انکار سے پہلے کہ بعد؟
ماضی میں جو قوم پرست ‘نسل پرست اور زبان دراز سیاستدان حقوق کے نام پر‘ جمہوریت کی آڑ میں اور سول بالادستی کے بہانے فوج کو گالیاں دیتے رہے ایک ایک کر کے سب غیر ملکی گماشتہ ثابت ہوئے‘ شیخ مجیب الرحمن نے بھارت سے اپنے دیرینہ رابطوں کو تسلیم کیا اور بھارتی فوج سے مل کر پاکستان کو توڑا‘ غفار خان نے پاکستان میں دفن ہونا پسند نہ کیا۔ ولی خان خانوادہ‘ محمود خان اچکزئی اور دیگر کے بارے میں جمعہ خان صوفی کی کتاب ’’فریب ناتمام ‘‘میں بھارت سے رابطوں اور مالی امداد کی تفصیل درج ہے جسے آج تک کسی نے چیلنج کیا نہ ہتک عزت کا مقدمہ قائم کرنے کی جرات ہوئی‘ کتاب دھڑا دھڑ بک رہی ہے۔ الطاف حسین کو ایم کیو ایم پاکستان نے غدار مان لیا‘ میاں صاحب کے بارے میں حسن ظن برقرار ہے‘ خدا نہ کرے کہ ان کے عاقبت نااندیش ساتھی اور اقتدار کے حریص جانشین ایک محب وطن سیاستدان کو بند گلی میں دھکیل کردشمن کے بیانئے کا مبلّغ بنا دیں‘ صدیوں سے سپہ سالار کو نشانہ بنا کر فوج میں پھوٹ ڈالنے‘ سپاہیوں کے حوصلے ڈھانے اور بے یقینی کو ہوا دینے کا نسخہ آزمایا جا رہا ہے۔ ہمیشہ ‘ہرجا کارگر ثابت ہوا‘یہی ہائبر ڈوار ہے انداز مختلف مگر مقصد ایک۔ فوج اور اس کے سربراہ کو الگ الگ خانوں میں فٹ کرنا‘ ادارے اور کردار میں تفریق روا رکھنا جہالت ہے یا پرلے درجے کی مکّاری اور پُرکاری ؎
دیکھ مسجد میں شکستِ رشتۂِ تسبیحِ شیخ
بتکدے میں برہمن کی پختہ زناّری بھی دیکھ

اپنا تبصرہ بھیجیں