حکومت ذرا بھی پریشان نہیں

کارپردازان حکومت نے کشمیر پر اتنے بیانات نہیں دیے جتنے جلوس گوجرانوالہ پر۔بس ثابت ہوا کہ گوجرانوالہ مطلب جلوس گوجرانوالہ ’’ کشمیر‘‘ سے کہیں بڑا سانحہ ہے۔حکومت نے بار بار دھرایا کہ اسے اپوزیشن کے جلسے پر کوئی پریشانی نہیں اور یہ بیان اتنی بار دھرایا کہ عوام پریشان ہو گئے کہ خدایا‘ یہ کیسی عدم پریشانی ہے کہ پریشان کن بیانات کی اس سے زیادہ سنچریاں ہو گئیں اور اگر کہیں حکومت پریشان ہوتی تو پھر بیانات کی کتنی سنچریاں بن جاتیں؟
ویسے جلسہ بڑا نہیں تھا۔ ایک وزیر صبح سے جلسے کے حاضرین کی گنتی بتا رہے تھے۔ صبح سے دوپہر تک وہ مسلسل آن ایئر رہے اور اپنے ’’ایمرجنسی روم‘‘ سے ٹی وی چینلز کو بتاتے رہے کہ جلسہ گاہ میں کل چار ہزار کرسیاں ہیں اس لئے پریشانی کی کوئی بات نہیں۔
سہ پہر اور دوپہر کے درمیانی وقفے میں انہوں نے اپنی نشریات میں تبدیلی کی اور کرسیوں کی گنتی کی تعداد میں معقول ترمیم کرتے ہوئے اعلان کیا کہ یہ تعداد اڑھائی ہزار سے ہرگز زیادہ نہیں انہوں نے لاہور سے روانہ ہونے والی مولانا فضل الرحمن اور مریم نواز کی ریلیوں اور پھر لالہ موسیٰ سے عازم گوجرانوالہ ہونے والے جلوس میں موجود گاڑیوں کی گنتی بھی کر ڈالی۔ فرمایا کہ تینوں جلوسوں میں پچاس پچاس گاڑیاں ہیں۔ ضمنی طور پر یوں یہ بات بھی معلوم ہو گئی کہ تینوں جماعتوں کے درمیان ’’مساوات‘‘پر اتفاق ہوا تھا، چنانچہ سب نے پچاس کے عدد پر اتفاق کیا۔ یعنی ایسا نہیں ہوا کہ ایک جلوس میں زیادہ گاڑیاں یعنی 51 عدد ہوتیں اور دوسرے میں کم گاڑیاں یعنی 49عدد ہوتیں۔
رات گئے وفاقی سطح پر اعداد و شمار میں نامعقول اضافہ کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ جلسے میں 15سے 20ہزار لوگ ہیں چنانچہ پریشانی کی کوئی بات نہیں اور یہ کہ جلسہ ناکام ہو گیا ہے‘ سٹیڈیم جگہ جگہ سے خالی پڑا ہے اور سب سے بڑھ کر آدھے سٹیڈیم میں تو سٹیج ہی بنا ہے‘باقی ایک چوتھائی پر پارکنگ ہے اور جو آخری چوتھائی ہے وہ بھی جگہ جگہ سے خالی ہے۔
یوں دیکھا جائے تو پندرہ سے بیس ہزار کی گنتی بھی حکومت کی ’’فراخدلی‘‘ بنتی ہے ورنہ تو وہی تعداد صحیح تھی جو ایک وزیر دن بھر بتاتے رہے یعنی اڑھائی ہزار والی۔
٭٭٭٭
اس اڑھائی ہزار کے جلسے نے حکومت کو پریشان تونہیں کیا لیکن از خود رفتہ ضرورکر دیا۔ اتنا زیادہ کہ اگلے ہی روز حکومت بنفس نفیس میدان میں آئی اور اعلان کیا کہ نیا پاکستان تو بن ہی چکا‘اب عمران خاں بھی نیا بنے گا۔نئے پاکستان نے دو سال میں عوام کی خوشیاں دوبالا کر رکھی ہیں۔ نیا عمران یقینا ان خوشیوں کو سہ بالا کرے گا۔ اللہ خیر کرے‘ان سہ بالا خوشیوں کا‘ جن کے چار بالا ہونے کا خطرہ بھی برابر موجود ہے‘بوجھ سہ بھی پائیں گے کہ نہیں‘مارے خوشی کے کہیں دم ہی نکل جائے نا!
٭٭٭٭
عوام کو جو یقین آ چکا کہ حکومت اپوزیشن کی ’’جلسی‘‘سے ذرا بھی پریشان نہیں ہے لیکن حکومت کو یقین نہیں آ رہا کہ عوام کو یقین آ گیا ہے چنانحہ آج تیسرے روز بھی ایک وزیر کو ٹی وی پر دیکھا جو بار بار یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہے تھے کہ حکومت ان جلسیوں سے ذرا بھی پریشان نہیں ہے۔یہ وہی وزیر تھے جو دو روز پہلے بتا رہے تھے کہ کوئی راستہ بند نہیں ہے اور یہ کنٹینر جو دسیوں ہزار کی تعداد میں پورے جی ٹی روڈ اور لاہور میں اور گوجرانوالہ میں لگائے گئے ہیں‘ یہ عوام کی حفاظت کے لئے ہیں۔عوام کو خطرہ کیا تھا؟ کیا اڑھائی ہزار کی جلسی سے؟
٭٭٭٭
حکومت نے بذات خود میدان میں آ کر بتایا کہ نواز شریف نے اپنی تقریر میں‘جو ٹی وی پر چلی نہ اخبارات میں آئی‘ فوج پر حملہ کیا ہے اور ان میں نریندر مودی کی روح آ گئی ہے۔
بہتر ہو تا حکومت نواز شریف کی یہ تقریر ٹی وی پر نشر کر دیتی تاکہ لوگوں کو بھی یقین آ جاتا کہ ہاں‘نواز شریف میں مودی کی روح بول رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر البتہ یہ تقریر لاکھوں بار دیکھی گئی۔کند ذہن انہیں تقریر اور کمزور نظر والے عوام ان کلپس میں مودی کی روح تلاش کرنے میں ناکام رہے۔
حکومت ان تمام فقروں کو نشان زدہ کر کے عوام کے سامنے لائے تاکہ وہ بھی اس روح بدکا ملاحظہ کر سکیں ،کیونکہ اس بد روح کا دیدار کرنا بہت ضروری ہے۔
٭٭٭٭
اپوزیشن کی تحریک نے اڑنے سے پیشتر ہی کئی اوروں کا رنگ زرد کر دیا ہے۔ تجزیہ نگار لکھ رہے ہیں کہ ستر سالہ سیاسی کلچر بدلنے کو ہے‘ کوئی نہ کوئی ’’حل‘‘ ناگزیر ہے۔لیکن چلیے چھوڑیے اس بحث کو ‘ آنے والے دن اور ہفتے (مہینے نہیں) ساری میزان سامنے لے آئیں گے۔
فی الوقت اس بیان پر غور فرمائیے جو ایک صادق و امین نے دیا‘ ایک آدھ ٹی وی پر چلا‘ ایک آدھ اخبار میں چھپا اور قلمکاروں کی طبع آزمائی کے مشرف سے محروم رہا۔ صادق امین کا نام بھی اتفاق سے صادق ہے۔ یعنی میجر ریٹائرڈ طاہر صادق۔ آپ حکومت کے اتحادی ہیں۔فرمایا‘ پختونخواہ میں جو ایک ارب درخت لگانے کی دھوم حکومت نے مچائی ہے‘ دراصل اس مہم میں صرف تین کروڑ درخت لگے۔ باقی 97کروڑ صرف اعداد و شمار ہیں۔فرمائیے‘اس بیان پر کسی محب وطن دیانتدار دانشور نے کچھ نہیں کہا تو کیوں نہیں کہا؟ویسے انہی دنوں کچھ ریمارکس بھی آئے تھے کہ ’’ہمیں تو ایک درخت بھی نظر نہیں آیا۔
٭٭٭٭
خبر ہے کہ حکومت کی بچت اور سادگی مہم کے باوجود سرکاری اخراجات میں ہوشربا اضافہ ہو گیا ہے، سینٹ میں بریفنگ دی گئی ہے کہ دو برس میں سرکاری اداروں کو سوا دس کھرب کا نقصان ہوا۔
حیرت ہے‘ حالانکہ بچت پروگرام کے تحت وزیر اعظم ہائوس کی بھینسیں بھی بیچ ڈالی تھیں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں