سعود عثمانی کی مسافت

تب مجھے والٹئیر یاد آئے، جنہوں نے کہا تھا:Every word of a writer is an act of generosity۔ لکھنے والے کا ہر لفظ سخاوت کا مظہر ہوتاہے۔ ہاں، جب وہ جی جان سے لکھے۔ زندگی اور کائنات کو اپنی آنکھ سے دیکھے۔ لفظ کے باطن میں اترے اور پھرجس طرح چاہے اسے برت لے۔فصاحت اسی کا نام ہے اور سرکارؐ کا فرمان یہ ہے: فصاحت مرد کا زیور ہے۔
کون سی تحریر ہے، جو دامنِ دل کو کھینچتی ہے۔جس میں جی لگتاہے اور کبھی تو ایسا ہوتاہے کہ کھوئی ہوئی یادیں اور بھولی ہوئی حسرتیں زندہ ہو جاتی ہیں۔ رائیگاں مہ و سال کا دکھ ایک الم کے ساتھ بیدار ہوتاہے۔ پھر روزِ ازل کے پیمان کی بازگشت جاگ اٹھتی ہے۔
مسلسل تین دن تک ایک بار مجھے اپنے محترم اور عزیز دوست گلبدین حکمت یار سے گفتگو کا موقع ملا۔اپنے ساتھ وہ مجھے پاڑہ چنار سے آگے پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر لے گئے، اپنے دفتر میں۔ دفتر کیا تھا، چند کچے کمرے، جن کے وسط میں انگیٹھی دن رات انگیٹھی جلتی رہتی، پشتون جسے بخاری کہتے ہیں۔ جس کے چھوٹے سے دھانے میں لکڑی کے چند ٹکڑے ڈال دیے جاتے ہیں اور اوپر سماوار میں پانی گرم ہوتا رہتا ہے۔ اس سماوار میں سے ایک پائپ اٹھتا ہے اور چھت میں سے گزر جاتاہے۔
مارچ کا مہینہ۔ اس کے باوجود برف باری کا یہ عالم کہ شاذ ہی وقفہ ہوتا۔ پہاڑوں سے گھری اس چھوٹی سی وادی میں یہ دفتر اس لیے بنایاگیا تھا کہ امریکہ اور روس دونوں اس کی جان کے درپے تھے۔ حسبِ عادت نصف شب تک میں جاگتا رہتا۔ برف باری کبھی تھمتی تو باہر نکل کر دیکھتا۔اجلے سفید پہاڑاور ان پر پھیلی ہوئی چاندنی۔ ایسا مسحور کن منظر کہ بیان کرنا ممکن ہی نہیں۔ چاندنی کو کون چھو سکتاہے۔ پہاڑوں کی ہیبت کو حرف و بیان میں مقید کیسے کیا جا سکتاہے۔ پھر دور دور تک پھیلا ہوا سناٹا اور آسمان اگر صاف ہو تو اس پر دمکتے ہوئے ستارے۔
جلتے ہر شب ہیں آسمان پہ چراغ
جانے یزداں ہے منتظر کس کا
ایسے میں کبھی خود سے ملاقات ہو جاتی ہے۔ اس وقت کبھی یہ خیال پوری شدت سے جاگتا ہے کہ زندگی کیا ہے۔ آدم زاد کیا چیز ہے۔ یہ زمین و آسمان کیا ہیں۔ یہ کائنات کیسی ہے؟ کیا اس کا کوئی پروردگار ہے اور اگر ہے تو اپنے بندوں سے وہ کیا چاہتا ہے۔
بے تکلفی سے بہت سے سوالات کیے۔ ایک دن پوچھا: کیاآپ کبھی روئے ہیں؟
حکمت یار کے والدِ گرامی، دریائے آمو کے کنارے بسنے والے شمال کے سب سے بڑے شکاری لالہ عبد القادر کو دشتِ ابادان میں جیپ کے پیچھے گھسیٹ کر مار ڈالا گیا تھا۔ اس کے دونوں بھائیوں کو ایک دن حکومت والے گھر سے اٹھالے گئے اور پھر کبھی ان کا سراغ نہ ملا۔ غداری کے پے درپے واقعات سے حکمت یار کو گزرنا پڑا تھا۔
اس کی زندگی تو گویا ایسی تھی کہ ہوش سنبھالا تو بھیڑیے کی طرح زمانہ اس پہ ٹوٹ پڑا۔ اپنے ہاتھ اس نے بھیڑیے کے منہ میں ڈال دیے اور آج تک نبرد آزما ہے۔
خیال یہ تھا کہ خود پر بیتے المناک حادثات میں سے کسی ایک کا ذکر وہ کرے گا لیکن ایسا نہ ہوا۔ بتایا: فوج میں بغاوت پیدا کرنے اور حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے گاؤں گاؤں، وادی وادی میں گھوم رہا تھا۔ ہر تھانے میں میری تصویر لگی تھی۔ فوج اور پولیس میری تلاش میں تھی۔ پیدل چلتے ہوئے ایک وادی سے گزر ہوا۔ چشمے پر وضو کیا اور گرد و پیش پر نگاہ ڈالی تو ہکا بکا رہ گیا۔ ایسا خیرہ کن حسن۔ اس وقت مجھے خیال آیا: خدا کی دنیا کتنی خوبصورت تھی۔ آدمی نے اسے کس قدر بھدا بنا دیا۔ اس خیال کے آتے ہی آنسو بے ساختہ بہہ نکلے اور بہتے رہے۔
یہ داستان کیوں بیان کی ہے؟میں نہیں جانتا۔کل شب عجب ماجرا ہوا۔ سعود عثمانی کی کتاب ’’مسافر‘‘کا دیباچہ لکھنا تھا۔ بہت دنوں سے ٹال رہا تھا۔ کتاب پر لکھنا مشکل، پوری کتاب پڑھنا اور بھی مشکل۔ ریاکاری سے ستائش کے خیال سے کراہت۔ آخر کو فیصلہ کیا کہ پوری کتاب پڑھنا تو مشکل ہے، تین باب پڑھ ڈالوں۔
پہلا باب پڑھنا شروع کیا تو چونک اٹھا۔ کالم تو ان کے پڑھے تھے اوراخبار میں چھپے سفر نامے کے ابواب بھی مگر غور کرنے کی فرصت کبھی پائی نہ تھی۔ اب آدھی رات کو یکسوئی سے دیکھنے کا موقع ملا تو دنگ رہ گیا۔ یہ سمندر کا ذکر ہے ’’سمندر چیز ہی ایسی ہے۔ گہرے خواب کی طرح نیلا، زمردی اور فیروزی۔ جھاگ اڑاتا، موج میں آتا اور گہرا، بہت گہرا۔ ہمہ وقت رنگ بدلتا۔ اپنے اندر ایک دنیا سمیٹے ہوئے۔ خوبصورتی، طاقت اور دہشت کی ایک مجسم علامت۔ دور رہو تو اپنی طرف بلاتا ہوا۔ پاس جاؤ تو اپنا خوف اور ڈر جگاتا ہوا۔‘‘
ہاں یہی کراچی کا سمندر ہے۔ اس کے کنارے یہ ناچیز بھی اسی کیفیت سے بارہا گزرا مگر بیان نہ کر سکا۔ کتاب کے ایک دوسرے باب نے تو نگاہ خیرہ کر دی۔ یہ جنگل کا بیان ہے:
’’گلابی، خنکی، وہ خنکی جس میں ذہن فیصلہ کرنے کی کوشش کرتاہے کہ عام لباس کے اوپر کچھ پہنا جائے یا نہیں اور کیا ہوا فیصلہ ہمیشہ غلط محسوس ہوتاہے۔ شاہ بلوط، اوک، سلور اوک، سلکی اوک، دیودار، چیڑھ، کئی اقسام کے طویل قامت پہاڑی درختوں کی ملی جلی خوشبو ہوا میں رچی تھی‘‘
ایک دوسرا پیرا گراف یہ ہے ’’سبزہ ہو، کھیت کھلیان ہوں یا پیڑ پتے۔ ان کی بو باس ان کے ہونے کی پہچان ہے۔ دھان کا کھیت اپنی خوشبو بکھیرتا ہو یا آم کے باغ میں پکتا ہوا بور۔ ہر مہک دوسری سے مختلف ہوتی ہے۔ اس تنوع کا ایک حصہ، جو خالق نے کائنات کے رگ و ریشے میں پیوست کر رکھا ہے۔ جنگل کی اپنی خوشبو ہوتی ہے اور پہاڑی جنگل کی مرطوب مہکار میدانی جنگل کی وحشی ہمکار سے بہت الگ ہوتی ہے۔ ایسے ہی، جیسے پہاڑی پرندوں اور پکھیرووں کی آوازیں اوررنگ و روپ میدانی پنچھیوں سے بالکل جدا پہچانے جاتے ہیں۔ میں ذرا سا آگے بڑھا۔ دائیں طرف کی گھاٹی میں گھاس اور جنگلی پودے شبنم یا شاید بارش میں بھیگے ہوئے۔ ہنگی، کائیں، زیتون، کنڈ، گل بنفشہ، گلِ سرجان، گل ترانی اور ڈیزی کے جنگلی پھول ڈھلوانوں پہ رنگ بکھیر رہے تھے۔ سڑک کی بائیں طرف ایک رہائشی عمارت تھی اور اس کے پیچھے پھر ترائی اور جنگل، کلڈنا کا جنگل‘‘
سعود عثمانی کی تحریر نے فقط چونکایا ہی نہیں، محرومی کے احساس میں مبتلا بھی کیا۔ اب تک ان تحریروں کو بہت غور سے میں نے کیوں نہیں پڑھا تھا۔ ان سے سیکھنے کی کوشش کیوں نہ کی تھی۔
تب مجھے والٹئیر یاد آئے، جنہوں نے کہا تھا: Every word of a writer is an act of generosity۔ لکھنے والے کا ہر لفظ سخاوت کا مظہر ہوتاہے۔ ہاں، جب وہ جی جان سے لکھے۔ زندگی اور کائنات کو اپنی آنکھ سے دیکھے۔ لفظ کے باطن میں اترے اور پھرجس طرح چاہے اسے برت لے۔فصاحت اسی کا نام ہے اور سرکارؐ کا فرمان یہ ہے: فصاحت مرد کا زیور ہے۔
(سعود عثمانی کے سفر نامے ’’مسافر‘‘ کے لیے دیباچے کے طور پر لکھا گیا)

اپنا تبصرہ بھیجیں