سیاست دان اور سوداگر کا فرق

وزیراعظم عمران خان نے کہا …

’’نواز شریف نے جنرل باجوہ نہیں، فوج پر حملہ کیا‘‘۔

یہ ادھورا سچ ہے جبکہ پورا سچ یہ ہے کہ نواز شریف نے اپنی ہی پیدا کردہ مہنگائی کی آڑ میں پاکستان پر حملہ کیا جبکہ اِس سے بھی بڑا سچ یہ ہے کہ نواز شریف بھی بےقصور ہے کیونکہ حالات نے اُسے ’’نارمل‘‘ ہی نہیں رہنے دیا اور میں یہ بات دس پندرہ دن پہلے اِسی کالم میں اپنے قارئین کے ساتھ تفصیلاً شیئر کر چکا ہوں کہ نواز شریف پے در پے جھٹکوں اور پریشرز کے نتیجہ میں بری طرح اعصاب شکنی کا شکار ہے اور ذہنی توازن کھو دینے کے ابتدائی مراحل سے گزر رہا ہے۔ بڑھتی عمر، دیرینہ بیماریوں، جذباتی دھچکوں، سیاسی صدمات اور المناک انجام کے بےپناہ خوف، وسوسوں اور اندیشوں نے نواز شریف کے حواس کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کوئی بھی شخص اِن حالات کا تصور کرے اور پھر خود کو نواز شریف کی جگہ رکھ کر سوچے تو اُسے میری معروضات سمجھنے میں خاصی آسانی رہے گی۔

میں نے گزشتہ کالم میں یہ بھی عرض کیا تھا کہ صرف اور صرف شدید غصہ (ANGER) ہی انسان کی مت مارنے کیلئے کافی ہے جبکہ میاں نواز تو ’’فیوری‘‘ کی حدود سے بھی گزر چکے ہیں۔

ہفتہ کی رات ’’میرے مطابق‘‘ کی ٹیم نے مجھے نواز شریف کے تازہ ترین ’’شہکار‘‘ دکھائے تو میرے لئے اپنی آنکھوں اور کانوں پر یقین کرنا مشکل تھا۔ تین بار وزیراعظم رہنے والا خطہ کے حالیہ حالات میں اتنا غیرذمہ دار کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ صرف ذہنی طور پر بیمار ہی ہو سکتا ہے۔

“Anger is a wind that blows out the lamp of the mind”

اور اس سے بھی بڑھ کر

“Anger is momentary madness, so control your passion or it will control you”

اب چلتے ہیں گجرانوالہ شو کی طرف، گزشتہ ہفتہ ’’رپورٹ کارڈ‘‘ میں بھی یہی عرض کیا تھا کہ گجرانوالہ ن لیگ کا گڑھ ہے، ہر اتحادی ایڑی چوٹی کا زور لگائے گا، پیسہ بےدریغ خرچ کیا جائے گا اور یہ شو بہت اچھا اور کامیاب ہوگا، وہی ہوا کیونکہ یہ کوئی تجزیہ نہیں، سیدھی سادی کامن سینس کی بات تھی۔ ضمناً عرض کرتا چلوں، مجھ سے کچھ لوگوں نے پوچھا کہ اِس شو پر سوا ارب روپے کے جو اخراجات ہوئے وہ کہاں سے آئے اور پورے کیسے ہوں گے تو عرض کیا۔

نمبر1۔ یہ پیسہ عوام ہی کا تھا۔

نمبر2۔ عوام کو ایکسپلائٹ کرنے پر خرچ کیا گیا۔

نمبر3۔ اور اگر اِن لوگوں کو موقع ملا تو سود سمیت عوام سے ہی وصول بھی کر لیا جائے گا۔

دوسری طرف PTIاسے ’’جلسی‘‘ اورفلاپ شو قرار دے کر حماقت کا مظاہرہ کر رہی ہے کیونکہ لوگوں میں شعور کی کمی تو یقیناً بہت ہے لیکن بینائی کی کمی ہرگز نہیں۔ اِس طرح کے جھوٹ بولنے کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ پھر لوگ آپ کی سچی بات بھی نہیں مانتے یا اُس پر شک کرتے ہیں۔

بہترین اور بیلنسڈ ترین پرفارمینس بلاول کی تھی جسے دیکھ کر خیال آیا کہ ماں اور نانا کا خون بول رہا ہے۔ بدترین اور قابلِ رحم ترین ’’پرفارمنس‘‘ بیچارے جاوید ہاشمی کی تھی جسے اِس عمر میں بھی نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم۔ ’’پھرتا تھا میر ؔخوار کوئی پوچھتا نہ تھا‘‘۔ کوئی ہاتھ تک تھامنے اور ڈھنگ سے پہچاننے تک کا بھی روادار نہ تھا، جسے دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ زندگی میں ایسا بیچارہ ’’باغی‘‘ کسی نے نہ دیکھا ہوگا۔ بھلے دنوں کی یاد میں جاوید ہاشمی کیلئے مشورہ ہے کہ بھائی! بھریا میلہ نہ سہی، اُجڑا میلہ ہی چھوڑ جائو، کیوں عزتِ سادات کے پیچھے پڑے ہو؟

بلاول کو ایک بار پھر داد جو ایک لمحہ کیلئے بھی پٹڑی سے نہیں اُترا اور اپنے گجرانوالہ کے بھولے بسرے سیاسی شہیدوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا نہ بھولا۔ داد دینا ہوگی اُس پورے خاندان کو۔

بھٹو پھانسی چڑھ گیا، فوج پر اُنگلی کبھی نہ اٹھائی۔

بیٹے قتل ہو گئے، اُف تک نہ کی۔

بےنظیر جیسی سچ مچ سیاست دان اور دلیر شہید کی گئی تو آصف زرداری کو بھی سلام جس نے ’’پاکستان کھپے‘‘ کا نعرہ لگایا۔

قذافی اسٹیڈیم لاہور میں مائوں جیسی بیگم نصرت بھٹو کے سر پر لاٹھیاں برسائی گئیں، جس کے نتیجہ میں بالآخر یادداش بھی جاتی رہی لیکن آفرین ہے اُن لوگوں پر جنہوں نے مادرِ وطن کے محافظوں کی طرف نہ کبھی آنکھ اٹھائی نہ انگلی… لیکن یہ کون لوگ ہیں جو آرمی چیف اور فوج تو کیا اِس ملک کی سالمیت کو بھی چیلنج کر رہے ہیں جس نے اُنہیں اِتنی عزت دی کہ اُن سے سنبھالی نہ گئی۔ ابھی تو تازہ ترین شہیدوں کے کفن بھی میلے نہیں ہوئے ظالمو!

واقعی سیاست دان اور سوداگر میں فرق ہوتا ہے۔ سوداگروں کی نظر نسلوں پر نہیں صرف نفع پر ہوتی ہے اور نقصان اُنہیں ہیجان اور ہذیان میں مبتلا کردیتا ہے۔

ہیجان اور ہذیان دونوں اپنے عروج پر ہیں لیکن لاعلاج ہرگز نہیں۔

(کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

اپنا تبصرہ بھیجیں