مکان در مکان

امریکی خلائی ادارے ناسا نے مریخ پر اپنا روبوٹ اتار دیا ہے۔ روبوٹ کامیابی سے ایک گڑھے میں اترا تو ناسا کے کنٹرول روم میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
خوشی ہونی بھی چاہیے۔ آج روبوٹ اترا ہے‘ کل انسان بھی اترے گا۔ ناسا کی خلائی ترقی قابل تعریف ہے لیکن دنیا کا عام آدمی یہ سمجھ نہیں پارہا کہ مریخ یا چاند پر مشن بھیجنے سے انسان کا کیا بھلا ہوگا۔ کہانی یہ ہے کہ زمین پر جگہ کم پڑ جائے گی تو مریخ پر آبادکاری ہوگی لیکن سائنس ساتھ ہی یہ بھی بتاتی ہے کہ مریخ ہو یا ہمارے نظام شمسی کاکوئی اور سیارہ ،رہائش کے قابل ہی نہیں۔ آکسیجن ہے نہ پانی۔ نظام شمسی سے باہر دور پار کے علاقوں میں رہائش کا تو سوال ہی نہیں اٹھتا۔ وہاں کوئی سیارہ رہائش کے قابل ہے بھی تو وہاں پہنچنے میں لاکھوں نہیں کروڑوں اربوں سال تک لگ جائیں گے اور اس سے پہلے تو قیامت کا دن آن پڑے گا۔
٭٭٭٭٭
خلائی سائنس بہت ترقی کر گئی ہے اور انسان کی آنکھ (چاہے وہ ناسا کے ٹیلی سکوپ ہوں یا ہبل شٹل کے کیمرے) کائنات کے اندر بہت دور تک کی خبر لا رہی ہے لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ جوں جوں انسان کائنات کے اندر سے اندر تک رسائی (دیکھنے کی حد تک) حاصل کرتا جارہا ہے‘ توں توں کائنات اور بڑی ہوتی جا رہی ہے۔ تھوڑی سی ٹھیک مثال سمندر اور کشتی کی ہے۔ جوں جوں کشتی آگے بڑھتی ہے‘ توں توں سمندر پھیلتا اور بے کراں ہوتا چلا جاتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ سمندر بالآخر ایک دن ختم ہو جاتا ہے یعنی کشتی والے یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ انہوں نے سارے سمندر گھوم لیے لیکن کائنات کبھی ختم نہیں ہوتی۔ وہ کبھی ختم ہو ہی نہیں سکتی۔ اس لیے کہ وہ لامحدود یعنی Infinitie ہے۔ یہ بہت ہی حیرت اور دماغ کو بھک سے اڑا دینے والی بات ہے۔
٭٭٭٭٭
صدیوں پہلے انسان کے نزدیک کائنات کا مفہوم ہماری زمین پر کرہ ارض تھا اور جس کے اوپر ایک نیلا شامیانہ تنا ہوا تھا۔ اس شامیانے میں ہزاروں (یا لاکھوں) ستارے کسی ٹانکنے والے نے ٹانک رکھے تھے اور بس۔
لیکن پھر دوربین ایجاد ہوئیں‘ رصد گاہیں بنیں‘ شعاعیں دریافت ہوئیں‘ روشنی کی رفتار کا پتہ چلا اور ایسی مشینیں بن گئیں جو یہ سراغ لگا سکتی تھیں کہ کون سی شعاع کتنا عرصہ پہلے کائنات کے کس علاقے سے چلی اور یوں اس جگہ کی دوری معلوم ہوئی۔ تب معلوم ہوا کہ زمین کائنات نہیں‘ اس کا حجم تو کائنات کے مقابلے میں اتنا بھی نہیں جتنا صحرائے اعظم کی ریت کے ایک ذرے کا ہو سکتا ہے۔ پرانے تصور باطل ہوتے گئے‘ نئی حیرانیاں سامنے آنے لگیں۔
ہمارا سورج زمین سے کتنا بڑا ہے؟ اس کے اندر ہمارے کرہ ارض جیسے کئی لاکھ سیارے سما سکتے ہیں‘ یہ اتنا بڑا ہے۔ ہولناک حد تک بڑا۔
لیکن کائنات میں تو سورج کی کچھ حقیقت بھی نہیں‘۔ اس سے بڑے کھربوں در کھربوں سورج موجود ہیں‘ مثلاً یو وی سکوٹی نامی سورج جس کا نصف قطر سورج ہمارے سورج سے سترہ سو گنا زیادہ ہے۔ یہ سورج زیادہ دور نہیں‘ بس ہماری زمین سے ساڑھے نو ہزار نوری سال کے فاصلے پر۔
٭٭٭٭٭
اس تحریر کا مقصد کائنات کے اعداد و شمار بتانا ہرگز نہیں۔ صرف یہ بتانا ہے کہ یہ اتنی بڑی کائنات کا صرف وہ حصہ ہے جہاں تک ہم دور بینوں ،شعاعوں کی رفتار کے حساب سے فاصلوں کا تعین کرسکتے ہیں۔ اصطلاحاً اسے قابل مشاہدہ کائناتی حصہ کہہ لیجئے ورنہ مشاہدہ کہاں۔ پوری کائنات کتنی بڑی ہوگی؟
لیکن یہ سوال بھی رہنے دیجئے۔ اصل سوال کچھ اور ہے۔ یہ کائنات تو محض ایک ہے اور سائنس والوں کا حساب یہ ہے کہ جہاں ایک کائنات ختم ہوتی ہے‘ وہاں سے بے کراں خلا شروع ہوتا ہے اور جہاں یہ خلا ختم ہوتا ہے وہاں دوسری کائنات شروع ہو جاتی ہے۔ کبھی بہت بڑے ایمپوریم کو دیکھئے‘ لاکھوں مچھلیاں تیرتی ہوئی نظر آئیں گی۔ ہر مچھلی کو ایک کائنات سمجھ لیجئے اور اس کے اور دوسری مچھلیوں کے درمیان کے پانی کو خلا۔ ہر مچھلی میں اربوں کھربوں سورج چاند ستارے ہیں۔ صرف ہماری کہکشاں میں جسے ملکی وے Milkyway کا نام دیا گیا ہے‘ چار سو ارب سورج ہیں۔ ہمارا ننھا منا سورج ان چار سو ارب میں سے محض ایک ہے اور ہماری زمین جیسی لاکھوں زمینیں اس ننھے منے سورج کے اندر سما سکتی ہیں۔ تو یہ ہے ہماری کہکشاں اور یہ ہے ہماری کائنات اور ابھی یہ پھیل رہی ہے‘ کن فیکون کی صدا بدستور اور دمادم آ رہی ہے۔
٭٭٭٭٭
فرض کرلیں‘ کائنات ایک جگہ ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے آگے کیا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔ دماغ بھک سے اڑ گیا کہ نہیں۔ جواب ہے خلا اور پھر سوال ہے کہ یہ خلا کہاں تک جاتا ہے۔ خلا کے بعد کیا ہے؟ اور یاد رہے مطلق خلا Nothingness کوئی شے نہیں ہوتا‘ خلا بھی مکان ہے اور یہ مکان کہاں تک ہے اور اس کے بعد کیا ہے اور پھر اس کے بعد کیا ہے؟ بہتر ہے اس سوال پر غور نہ ہی کریں۔ دماغ کا فالودہ کرنے کے سوا آپ کچھ نہیں کر سکیں گے۔ فی الحال ایک کام کی بات پر گزارا کیجئے اور وہ یہ ہے کہ انسان کے اختیار میں خون بہانا ہے لیکن یہ اختیار وہ صرف کرہ ارض پر استعمال کرسکتا ہے۔ (فرشتوں نے کہا تھا اے خدا تو ایسی مخلوق بنا رہا ہے جو زمین پر خون بہائے گی)۔ اللہ اکبر۔ ثم اللہ اکبر!
دوسرے سیاروں پر خون بہانے کے لیے دوسری مخلوق ہوگی‘ انسان نے جتنا خون بہانا ہے اسی بدقسمت سیارے پر بہالے‘ دوسرے سیاروں کا خیال چھوڑ دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں