چولستان جیپ ریلی اور قلعہ دراوڑ

اس سال چولستان جیپ ریلی گیارہ سے چودہ فروری تک تھی لیکن یہ چار دن تو شائقین کیلئے ہوتے ہیں۔ حصہ لینے والے اور کیمپ وغیرہ کا اہتمام کرنے والے اس سے بھی کئی دن قبل دراوڑ پہنچ جاتے ہیں۔ اطہر خاکوانی‘ انس خاکوانی اور اویس خاکوانی تو تین فروری کو ہی دراوڑ چلے گئے تھے۔چالیس پچاس دوستوں کیلئے ویرانے میں مہمانداری کے تمام تر لوازمات کا اہتمام کرنا کوئی آسان کام نہیں لیکن خاکوانی برادران یہ کام گزشتہ بیس سال سے کر رہے ہیں اور ہر بار گزشتہ سال سے بہتر انتظامات صاف نظر آتے ہیں۔ پہلے اس کیمپ میں پانی کی فراہمی واٹر ٹینکر کے ذریعے کی جاتی تھی جو دراوڑ سے ٹریکٹر کے ذریعے اس کیمپ تک لایا جاتا تھا اس سال وہاں پانی کا پختہ تالاب بن چکا تھا اور پائپ لائن کے ذریعے وافر میٹھا پانی میسر تھا جسے موٹروں کے ذریعے فائبر گلاس کی ٹینکیوں تک پہنچا کر پانی کے سارے ترسیلی نظام کو مکمل کر دیا تھا۔ فی الحال بجلی کا بندوبست جنریٹرسے کیا جا رہا ہے لیکن یقین ہے کہ اگلے سال تک بجلی کی فراہمی بھی ممکن ہو جائے گی۔ گیارہ فروری کو کوالیفائنگ راؤنڈ تھا‘ بارہ فروری کو تیار شدہ گاڑیوں کا پہلا مرحلہ تھا‘ تیرہ تاریخ کو عام گاڑیوں کی ریس تھی اور چودہ تاریخ کو تیار شدہ گاڑیوں کا دوسرا اور فائنل مرحلہ تھا۔ اس ریلی میں گاڑیوں کو بنیادی طور پر دو اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے‘ عام سادہ گاڑیاں جنہیں تکنیکی زبان میں Stock گاڑیاں کہا جاتا ہے اور دوسری تیار کردہ یعنی Prepared گاڑیاں۔ سادہ یعنی Stock گاڑیاں وہی ہیں جو ہم سڑکوں پر عام طور پر دیکھتے ہیں۔

یہ گاڑیاں کسی قسم کی تبدیلی‘ ترمیم اور اَپ گریڈیشن وغیرہ سے پاک ہوتی ہیں جبکہ تیار شدہ گاڑیاں بے تحاشا تبدیلیوں اور ترمیمات کے بعد بڑی اونچی قسم کی چیز بن جاتی ہیں۔ اب ان کی تفصیل کیا بتاؤں یوں سمجھیں کہ ساری گاڑی ہی اَپ گریڈ کی جاتی ہے اسے ریت‘ گڑھوں‘ ٹیلوں اور خراب ترین راستوں پر دوڑانے کیلئے خاص طور پر تیارکیا جاتا ہے۔ اس تیاری کا خرچہ گاڑی کی اپنی اصل قیمت سے بھی کئی گنا زیادہ ہو جاتا ہے اور ہر دوڑ کے دوران خراب ہونے کی صورت میں تو خیر اس پر جو خرچہ آتا ہے وہ تو آتا ہی ہے‘ ہر ریس کے بعد گاڑی نئے سرے سے اوورہال کروائی جاتی ہے۔ تیار شدہ اور عام گاڑیوں کو مزید چار چار کیٹگریز میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ اے‘ بی‘ سی اور ڈی کیٹگریز ہیں۔ یہ کیٹگریز گاڑیوں کی ہارس پاور کے مطابق ہیں اور کیٹگری میں زیادہ سے زیادہ سی سی کی بنیاد پر آخری حد طے کر دی گئی ہے ۔البتہ اے کیٹگری کی اوپری حد کوئی نہیں۔ اس میں ایک خصوصی کیٹگری لیڈیز کلاس ہے جو اوپن ہے اور اس میں اے‘ بی‘ سی یا ڈی کی مزید کوئی تقسیم نہیں؛ تاہم پوری ریلی میں سب سے زیادہ توجہ تیار شدہ گاڑیوں کی اے کیٹگری کو ملتی ہے اور اس کو جیتنے والا ریس کا چیمپئن ڈرائیور تصور ہوتا ہے۔ نادر مگسی چولستان جیپ ریلی کی سولہ میں سے تقریباً بارہ ریس جیت چکا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ نادر مگسی جتنا اچھا ڈرائیور ہے اس سے زیادہ شاندار سپورٹس مین ہے جو پاکستان میں اس کھیل کیلئے اپنی ساری صلاحیتیں صرف کر رہا ہے اور خاص طور پر نئے ڈرائیوروں کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں تکنیکی طور پر بھی بھرپور مدد فراہم کرتا ہے۔ بقول ایک قریبی دوست کے وہ ہر نئے ڈرائیور کو جتنے اخلاص سے بہترین مشورہ دیتا ہے کسی ایسے شخص سے اس کی امید بھی نہیں کی جا سکتی جو اس کے ساتھ ریس میں شریک مقابلہ ہو‘ مگر نادر مگسی جتنی ایمانداری اور دیانتداری سے اپنے تجربے کی روشنی میں نئے ڈرائیور کو گائیڈ کرتا ہے وہ ناقابلِ یقین ہے۔

اس بار کورونا کے باعث عرصے سے محدود نقل و حرکت کے شکار ریلی ڈرائیوروں کی اتنی زیادہ تعداد نے شرکت کی کہ ٹی ڈی سی پی کی جانب سے کئے جانے انتظامات ناکافی ہو کر رہ گئے۔ ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن پنجاب نے سو گاڑیوں کیلئے انتظامات کئے تھے جو بظاہر بہت مناسب بلکہ مناسب سے بھی بہتر تھے لیکن خلافِ معمول شرکت کرنے والی گاڑیوں کی تعداد کافی بڑھ گئی۔ گاڑیوں کی رجسٹریشن پہلے آؤ‘ پہلے پاؤ‘ کی بنیاد پر کی گئی تھی اور منتظمین نے سو گاڑیوں کے بعد مزید گاڑیوں کی رجسٹریشن بند کر دی لیکن اس کے بعد وہی ہوا جو ہمارے ہاں ہوتا آیا ہے۔ یار لوگوں نے سفارشیں شروع کروا دیں جو بیورو کریسی سے لے کر مقتدر حلقوں تک پھیلی ہوئی تھیں حتیٰ کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے دفتر سے اس سلسلے میں دباؤ کی اطلاعات بھی زبان زدِ عام تھیں۔ صورتحال یہ تھی کہ ہر گاڑی کے ساتھ ٹریکر لگایا جاتا ہے تاکہ کوئی ڈرائیور اور خاص طور پر ”روہی‘‘ کے راستوں کے بھیدی ڈرائیور اس ریس کے دوران کسی قسم کا شارٹ کٹ نہ لگا سکیں اور مقررہ روٹ پر ہی اپنی ریس مکمل کریں۔ ظاہر ہے مزید ٹریکروں کا بندوبست کرنا ایک علیحدہ مسئلہ تھا اور ایک دن کے اندر اندر تمام گاڑیوں کو اس طرح وقفے وقفے سے روانہ کرنا کہ وہ ایک دوسرے کیلئے کم سے کم رکاوٹ کا باعث بنیں اور تمام گاڑیاں دن ڈھلنے سے پہلے واپس بھی آ جائیں اسی صورت میں ممکن ہے کہ گاڑیوں کی تعداد ایک خاص حد سے زیادہ نہ ہو‘ لیکن سفارش اور دباؤ نے آخر کار گاڑیوں کی تعداد سو سے ایک سو چالیس کے لگ بھگ کر دی۔

نادر مگسی کا خیال تھا کہ نئے ڈرائیور اس کھیل کا مستقبل ہیں اور آج نہیں تو دو تین سال بعد یہ سارا میلہ انہی کے دم سے سجے گا لہٰذا ان کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے اور انہیں موقع بھی فراہم کیا جائے۔ ایک گھر کے بھیدی نے بتایا کہ مقررہ تعداد سے بڑھ جانے والی گاڑیوں کیلئے درکار لوازمات کا سارا خرچہ بھی ایک ایسے شخص نے کیا جو اس کھیل کو پھلتے پھولتے دیکھنا چاہتا تھا۔کیمپ کمانڈنٹ حسب ِمعمول انس خاکوانی تھا اور گزشتہ دو سال سے بوجوہ ریس میں حصہ نہ لینے کی فراغت کے باعث اس کے حسنِ انتظام کے طفیل اس کیمپ میں ہر سہولت کا معیار جو پہلے ہی بہت بہتر تھا‘ مزید بہتر ہو گیا تھا۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ اس سال کلچرل شو اور میلہ نہ ہونے کے باعث شاید شرکا کی تعداد کم ہوگی مگر ایک محتاط اندازے کے مطابق اس سال بھی ہر سال کی طرح لوگ اپنی اپنی سہولت کے مطابق آتے اور جاتے رہے تاہم آخری روز صحرائے چولستان میں سٹارٹنگ پوائنٹ سے لے کر فنشنگ پوائنٹ اور سارے ٹریک کے ساتھ ساتھ موجودشرکا کی کل تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی جو اپنے اپنے حساب سے کئے گئے انتظامات کے مطابق آئے ہوئے تھے۔ برادر عزیز اویس خاکوانی تیار شدہ گاڑیوں کی بی کیٹگری میں پہلے نمبر پر آیا اور اس نے اپنی کیٹگری کے پانچوں مرحلوں میں ہر جگہ پہلی پوزیشن لی۔ نادر مگسی کی ریس والی گاڑی ٹریک کی ریکی کے دوران ہی خراب ہو گئی اور اس نے ریس میں اپنی دوسری گاڑی دوڑائی اور پہلے مرحلے میں خرابی کی وجہ سے وہ کارکردگی نہ دکھا سکا جس کی توقع تھی تاہم وہ اس کے باوجود دوسری پوزیشن پر آیا جبکہ اس ریس کا دُلہا یعنی اے کیٹگری (تیار شدہ گاڑی) کے مقابلے میں فاتح صاحبزادہ سلطان ٹھہرا لیکن اس بار سب سے زیادہ خوشی قلعہ دراوڑ کو دیکھ کر ہوئی۔ میں‘ ڈاکٹر عنایت‘ ڈاکٹر بلال احسن اور شفقت بلوچ قلعہ دراوڑ پہنچے تو دیکھا کہ خستہ حال قلعہ کی شکل و صورت کچھ نکھری ہوئی ہے۔ داخلی راستہ بہتر ہوا ہے اور پرانے کمرے جو غلہ گودام کے طور پر استعمال ہوتے تھے ازسر نو تعمیر ہو چکے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ قلعے کے مرکزی دروازے والی دیوار یعنی مشرقی دیوار کے دائیں حصے کی مرمت ہو رہی تھی۔ مجھے یقین ہے کہ اگر اس قلعے کی باقاعدہ مرمت کا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ گیا تو عشروں سے آہستہ آہستہ ریت کے ساتھ ریت ہوتا ہوا یہ قلعہ شاید اس صحرا میں اسی طرح سینہ تان کر کھڑا رہے گا جس طرح وہ گزشتہ کئی صدیوں سے کھڑا ہے۔ خدا کرے میرا گمان سچ ثابت ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں