ذکر رفتگاں

تھوڑے دنوں کے وقفے سے دو جی دار سیاستدان بزم جہاں کو الوداع کہہ گئے۔ پہلے حافظ سلمان بٹ‘ پھر مشاہد اللہ خاں‘حافظ سلمان بٹ زمانہ طالب علمی میں بڑے قد آور رہنما تھے ۔ ان کی ’’دہشت‘‘ کے بارے میں افسانوں کی دھوم تھی ۔کہا جاتا تھا کہ بہت مارپیٹ کرتے ہیں ۔ ایک طالب علم کو تو انہوں نے قتل بھی کیا۔ یہ افسانے سراسر جھوٹ تھے لیکن اتنی کثرت اور سرعت سے پھیلائے گئے کہ اب بھی بہت سے لوگ ان کا اعتبار کرتے ہیں۔ بعدازاں وہ جماعت اسلامی میں شامل ہوئے اور لاہور کی قیادت تک محدود ہو گئے۔ان کی دہشت کے افسانوں کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے کبھی کسی کو تھپڑ تک نہیں مارا۔ البتہ ان کی دہشت ایک راز ضرور ہے۔ ایک واقعے کا تقریباً عینی شاہد مجھے بھی سمجھیے۔ جمعیت کے کچھ طلبہ نہر کے ساتھ جا رہے تھے، ان کی قیادت سلمان بٹ کر رہے تھے۔ اچانک مخالف تنظیم کے کچھ لڑکے سامنے سے آئے اور فائرنگ کر دی۔ جمعیت کے لوگ ادھر ادھر پناہ کے لئے بھاگ نکلے لیکن حافظ صاحب جو نہتے تھے‘ حملہ آوروں کی طرف بڑھے۔ انہیں اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر ایک کے سوا تمام حملہ آور بھاگ نکلے‘ ایک لڑکا اپنی گن حافظ صاحب کی طرف کئے ہوئے کھڑا رہا۔ اپنی بہادری کی وجہ سے نہیں‘ خوف سے اس کے قدم جم گئے تھے اور بندوق اس کے ہاتھوں میں کانپ رہی تھی۔ حافظ صاحب پاس پہنچے تو اس کی بندوق نیچے آ گری۔ بعد کا واقعہ غیر متعلق ہے۔
تقویٰ کے جتنے معیار ہو سکتے ہیں‘ حافظ صاحب ان پر پورا اترتے تھے۔ لہجہ ہمیشہ نرم اور ملائم رہا لیکن تقریر اتنی ہی سخت ‘ جوشیلی برسر تقریر ہوتے تو توازن کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جاتا۔
بہت زیادہ اثرورسوخ والے تھے لیکن تمام عمر غربت میں بسر کی۔ حلال کی کمائی میں یہی ہوتا ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ باقی دنیا کے برعکس‘ پاکستان وہ ملک ہے جہاں رزق حلال بے برکت‘ حرام کی کمائی جملہ برکات کو سمیٹ لیتی ہے۔ حق مغفرت کرے۔
٭٭٭٭
مشاہد اللہ پی آئی اے کے زمانے سے ہی شہرت حاصل کر چکے تھے۔ وہ ’’پیاسی‘‘ کے لیڈر رہے۔ جو اب قصۂ ماضی بن چکی۔ پھر مسلم لیگ ن میں آئے اور دم آخر تک اس کے مورچے میں داد شجاعت دیتے رہے۔ ایمان‘ جرأت اور غیرت کا پیکر‘ کبھی کسی سے ڈرے نہ دبائو میں آئے۔ اسلام جمہوریت اور پاکستان کے لئے عمر بھر سربکف رہے۔ شعر و ادب سے خصوصی دلچسپی تھی اور حافظہ بھی اچھا۔ برجستہ اور رواں دواں تقریر کرتے‘فقروں کی چوٹ الگ‘نگینے کی طرح جڑے ہوئے،شعروں کی چوٹ الگ۔ مخالف بھی ان کی تقریر کا مزا لیتے۔ آئین کی بالادستی کے پرجوش حامی تھے اس لئے بڑے حلقوں میں ہمیشہ نامطلوب بلکہ سخت ناپسندیدہ رہے۔مشاہد اللہ مرحوم ایک دم توڑتی وضع دارانہ تہذیب کا چلتا پھرتا مرقع تھے۔ انہیں دیکھنے سننے کی عادت ہو گئی تھی۔ ایک سجی سجائی بزم کی رونق‘ آہ ؎
مدتوں رویا کریں گے جام و مینا تجھے
خدا ان پر رحمت اور سلامتی کرے
٭٭٭٭
دھرنے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن کے آخری دنوں میں صرف خالی کرسیاں رہ جاتی ہیں لیکن اوپر سے’’آرڈر‘‘ ہوتا ہے کہ خالی کرسیوں کو دس لاکھ کا مجمع بنا کر دکھائو اور ٹی وی چینل تعمیل حکم کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ سال دو سال گزرنے کے بعد کوئی چینل میزبان خود ہی‘ بے ساختہ یہ راز انکشاف کر دیتا ہے۔ دوسری قسم کا دھرنا وہ ہوتا ہے جس کے بارے میں مت دکھائو کا حکم نازل ہوتا ہے۔ ایسا ہی ایک دھرنا ہفتہ گزراں میں ملک بھر سے آئے ہوئے لاپتہ افراد کے لواحقین نے کیا ،جن میں اکثریت بوڑھے ماں باپ اور چھوٹے چھوٹے بچوں کی تھی۔دھرنا والے پارلیمنٹ سے فریادی تھے۔ کسی عدالت سے نہیں‘ پتہ نہیں کیوں؟
اس دھرنے میں ایک مظلوم بلوچ نوجوان جہاں زیب کی بوڑھی والدہ روتے روتے بے ہوش ہو کر گر گئی اور چل بسی۔ لاپتہ افراد سے یکجہتی کرنے اور جبری گمشدگان کی بازیابی کا مطالبہ کرنے مریم نواز بھی پہنچیں اور مختصر سا خطاب بھی کیا۔اس دھرنے اور خطاب کی مختصر سی خبر اخبارات کے آخری صفحات پر دو کالم اور بوڑھی ماں کا انتظار ختم ہونے کی خبر ایک اخبار نے سنگل کالم چھاپی۔پتہ نہیں کیوں؟مریم کے دھرنا دینے پر حکومت اور حکومتی حلقے ‘ برہم ہوئے اور سب سے زیادہ برہم پنجاب کی مشیرہ اطلاعات ہوئیں اور مریم کو جعلی راجکماری کہہ کر بھڑاس نکالی۔ پتہ نہیں کیوں!جعلی راجکماری کو دھرنے میں نہیں جانا چاہیے تھا۔
٭٭٭٭
چند روز پہلے گجرات میں تجاوزت والوں نے ایک آدمی کی دکان مسمار کر دی۔ زندگی کا سہارا چھن جانے پر وہ صدمے سے چل بسا۔ ایک سیاستدان نے اس پر بیان دیا جو لفظ بلفظ کچھ یوں ہے۔
’’نوکریاں مل نہیں رہیں‘اوپر سے کاروبار بھی مشکل سے چل رہے ہیں اور ایسے میں لوگوں سے روزگار چھینا جا رہا ہے‘ گجرات سمیت پنجاب میں تجاوزات کے خلاف مہم اور روزگار چھیننے پر لوگوں کی اموات ہوئی ہیں۔ غریبوں کی بددعائیں نہ لی جائیں‘‘۔
’’چھینا جا رہا ہے‘‘سے پتہ نہیں چلتا کہ روزگار چھیننے والا کون ہے۔ بددعائیں نہ لی جائیں‘ سے بھی معلوم نہیں ہوتا کہ مخاطب کون ہے‘ کسے یہ مشورہ دیا جا رہا ہے۔چنانچہ مجبوراً قیاس کا سہارا لینا پڑے گا۔ قیاس یہی ہے کہ ان کے مخاطب نواز شریف ہیں‘ یعنی ماضی کی حکومت ہے۔چنانچہ نواز شریف سے التماس ہے کہ وہ غریبوں کا روزگار نہ چھین‘ ان کی جانیں نہ لیں‘غریب بچوں سے چھت چھیننے اور انہیں منہ کے نوالے سے بھی محروم کرنے کی جو مہم نواز شریف نے اڑھائی سال سے چلا رکھی ہے‘ اسے بند کریں۔ مالداروں کے پاس بہت مال ہے‘ اس لئے نواز شریف غریبوں کی جیب اور پیٹ کاٹ کر انہیں مزید مالدار بنانا روک دیں اور نواز شریف ‘ غریبوں کی بددعائیں نہ لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں