یہودیوں کی سرزمینِ عرب پر واپسی

عربی زبان میں اس عدالت کو محکمۃ حاخامیہ‘‘ کہتے ہیں۔ حاخام، یہودی ربائی (Rabbi)کا عربی ترجمہ ہے۔ تورات، تالمود اور زبور کی الہامی زبان عبرانی میں اس عدالت کو ’’بیث ڈن‘‘ (Beth din)کہتے ہیں۔ یہ یہودی شرعی عدالت ہے جسے ایک یہودی ’’حاخام ‘‘کی سربراہی میں قائم کیا جاتا ہے اور اس کے دو ایسے معاون جج ہوتے ہیں، جو یہودی شریعت اور شرعی قوانین کے ماہرہوں۔ یہودیوں کی تمام شرعی عدالتیں، موسوی شریعت کے اس واضح حکم سے وجود میں آتی ہیں، ’’اور اپنے دروازوں پر عدالتیں قائم کرو اور حکمران بٹھاؤ‘‘ (بابِ ا ستثنیٰ) 16:18 (Deuteronomy)۔ نفاذ شریعت کا ایسا ہی حکم اسلام میں بھی سورۃ المائدہ کی آیت میں تین دفعہ شدید وارننگ کے ساتھ آیا ہے، ’’اور جو اللہ نے نازل کیا ہے اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو وہی لوگ کافر ہیں‘‘ (المائدہ:44)۔ اگلی دو آیات میں ان مسلمانوں کو ’’ ظالم‘‘ ا ور’’ فاسق‘‘ بھی کہا گیا ہے۔ یہودی شریعت جس کی تفصیلات تالمود میں وضاحت سے بیان کی گئی ہیں، اس کے تحت شرعی عدالتوں کے تین درجے ہیں۔ سب سے بڑی عدالت ’’سن ہیدرن‘‘ (Sanhedrin) ہوتی ہے جو بیت المقدس (Temple Mount)کے علاقے میں قائم کی جانی چاہیے ۔یہ عدالت دراصل یہودی حکمرانوں کو موسوی شریعت کے مطابق چلانے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ یہ ایک قسم کی آئینی سپریم کورٹ ہوتی ہے۔ یہ دنیا بھر میں آباد یہودیوں کے لئے نافذالعمل قوانین بھی جاری کرتی ہے اور حکمرانوں کے افعال کا بھی جائزہ لیتی ہے۔ یہ عدالت 358عیسوی تک مسلسل قائم رہی، لیکن پھر بازنطینی حکمرانوں نے اسے ختم کر دیا۔ اسوقت سے لے کر آج تک یہودی اس عدالت کو دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کر تے چلے آرہے ہیں۔ اسرائیل کے قیام کے 56سال بعد 2004ء میں اکہتر (71) یہودی ربائی طبرییا کے اس شہر میں اکٹھے ہوئے جہاں 1648سال پہلے اس بڑی عدالت کو ختم کیا گیا تھااور ان اکہتر یہودی مذہبی رہنماؤں نے وہاں ’’سن ہیدرن‘‘ کے قیام کا اعلان کر دیا۔ اس عدالت کے قیام میں سب سے سرگرم یہودیوں کا وہ گروہ ہے جو بارہویںصدی کے مشہور یہودی فقیہہ اور شریعت کے عالم ’’موسیٰ بن میمون‘‘ کو مانتے ہیں اور ’’میمونی‘‘ (Maimonides) کہلاتے ہیں۔ یہودی شرعی قوانین کی فقہی ترتیب و تدوین (Codification)’’یوسف بن افراہیم کارو‘‘نے تیرہویں صدی عیسوی میں کی تھی۔اس کی بنائی ہوئی فقہی تدوین کی نئی قائم شدہ عدالت میں مارچ 2010ء میں بحیثیت قانون نافذ کر دیا گیاہے۔ اس عدالت کے زیرِ سایہ دوسری سطح کی عدالت کو ’’سن ہیدرن کیتانہ‘‘ (Sanhedrin Ketana)کہتے ہیں۔ یہودی فقہہ کے مطابق کوئی ایسا گاؤں جس کی آبادی 230افراد تک پہنچ جائے وہاں ایسی عدالت ضرور قائم ہونی چاہیے۔ یہ عدالت فوجداری اور دیوانی دونوں مقدمات کا فیصلہ کرتی ہے اور موت کی سزا بھی دے سکتی ہے۔ اسرائیل میں آج، ایسی عدالتیں قائم ہیں۔ سب سے کم درجے کی عدالت ’’بیث ڈن‘‘ (Beth din)ہوتی ہے اور وہ ہر ایسے شہر یا علاقے کے لئے لازم ہے جہاں 120افراد تک یہودی آباد ہوں، بے شک وہ کسی دوسرے ملک کا علاقہ ہی کیوں نہ ہو۔’’بیث ڈن‘‘ عدالتیں مالی اور سول امور میں یہودیوں کے درمیان تنازعات کا فیصلہ کرتی ہیں۔
المناک خبر یہ ہے کہ اب یہ ’’بیث ڈن‘‘ عدالتیں مسلمانوں کی مقدس سرزمینِ عرب پر بھی قائم ہونے جا رہی ہیں۔ یوں تو یہودی شرعی عدالتیں مسلمان ممالک میں سے ایران میں کافی عرصے سے کام کر رہی ہیں اور تہران میں یہودی ربائی یونس حمام لالہ زار کی سربراہی میں ’بیث ڈن‘‘ کی عدالت آج بھی موجودہے، لیکن جزیرہ نما عرب تو وہ خطہ ہے جس کے تقدس اور جس کی حرمت کے تحفظ کے لئے خود رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ’’اگر میں زندہ رہا تو انشاء اللہ جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو نکال دوں گا‘‘ (ترمذی: کتاب الجہاد)۔ ایک جگہ اور واضح انداز میں براہ راست یہودیوں کو حکم دیا، ’’حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ہم مسجد میں بیٹھے تھے کہ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا ’’یہودیوں کے پاس چلو، ہم آپؐ کے ساتھ گئے یہاں تک کہ یہود کے پاس پہنچے۔ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور ان کو پکارا اور فرمایا اے یہود کے لوگو! مسلمان ہو جاؤ، انہوں نے کہا اے ابو القاسم! آپ نے پیغام دے دیا ، آپؐ نے فرمایا، میں یہی چاہتا ہوں۔ آپؐ نے ایسا تین مرتبہ فرمایا اور پھر کہا ’’جان لو کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ تم کو اس ملک سے باہر نکالوںتو جو شخص اپنے مال کو بیچ سکے وہ بیچ ڈالے اور نہیں تو یہ سمجھ لو کہ زمین اللہ اور اللہ کے رسول کی ہے‘‘ (مسلم: کتاب الجہاد؎)ایک اور حدیث میں یہودیوں کے ساتھ عیسائیوں کو بھی ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ حضرت جابر بن عبد اللہ نے حضرت عمر ابنِ خطاب سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا، ’’میں یہودیوں اور عیسائیوں کو جزیرۂ عرب سے ضرور نکال کر رہوں گا اور اس میں مسلمانوں کے سوا کسی اور کو نہیں چھوڑوں گا‘‘ (ابو داؤد: کتاب الخراج و الفئی والامارہ)، ان احادیث میں دیئے گئے رسول اللہ ﷺ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے حضرت عمر نے عیسائیوں اور یہودیوں جزیرۂ عرب سے نکال دیا گیا تھا۔ ابنِ سرح کی سند سے روایت ہے کہ امام مالک ؒ نے بیان کیا کہ ، حضرت عمر نے اہل نجران اور فدک کے یہودکو جلا وطن کر دیا تھا(ابو داؤد)۔ حضرت عمر نے اہلِ نجران کو جلا وطن کر دیا لیکن وہ تیماء سے نہیں نکالے گئے کیونکہ عرب کی یہ حدود نہیں(ابو داؤد)۔ ان تمام احادیث کے علاوہ اس حدیث میں تو بہت ہی واضح حکم موجود ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جزیرۂ عرب میں دو دین اکٹھے نہیں رہ سکتے( ترمذی)۔ اس حدیث کی رو سے تو ہندو، بدھ اور مشرکین غرض اسلام کے سوا کوئی اور طرزِ زندگی اختیار کرنے والے افراد کو جزیرۂ عرب میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ جزیرۂ عرب کا جو جغرافیہ کتبِ حدیث میں درج ہے وہ یہ ہے ’’زمین کا وہ ٹکڑاجسے بحرِ ہند، بحرِ احمر بحرِ شام اور دجلہ و فرات نے احاطہ کر رکھا ہے، یا طول کے لحاظ سے عدن ابین کے درمیان سے اطرافِ شام تک کا علاقہ اور عرض کے اعتبار سے جدہ سے لے کر عراق کے اطراف تک کا علاقہ‘‘۔
اب اس مقدس سرزمین،جزیرۂ عرب کی چھ ریاستوں، بحرین، کویت، عمان، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے یہودیوں نے 15فروری کو اپنی علاقائی تنظیم کا اعلان کیاہے،جس کو ایک یہودی حاخام یعنی ربائی (Rabbi)کی سربراہی حاصل ہوگی۔ اس تنظیم کا نام “Association of Gulf Jewish Community (AGJC)”رکھا گیا ہے۔ اس تنظیم کا صدر بحرین کا یہودی ممبر پارلیمنٹ، ابراہیم داؤد نونو ہوگا۔ ایلی عبادی آجکل نیویارک میں رہ رہا ہے، لیکن وہ اس مقصد کے لئے فوراًمتحدہ عرب امارات منتقل ہورہا ہے۔ یہ شخص بیروت میں پیدا ہوا، میکسیکو میں پلا بڑھا اور اب نیویارک میں ایک اہم یہودی سکالر کی حیثیت سے رہ رہا ہے۔ اس نے متحدہ عرب امارات روانگی کے وقت کہا ہے کہ ’’ایسا لگتا ہے کہ میں اپنے گھر واپس جا رہا ہوں، جس خطے میں میں پیدا ہوا،وہ زبان جو میں نے سب سے پہلے بولی اور جن روایات میں میں پلابڑھا‘‘۔اس یہودی علاقائی تنظیم کے قیام کے ساتھ ہی ایک اہم ترین اعلان یہ ہوا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں تیسری سطح کی یہودی شرعی عدالت ’’بیث ڈن
‘ (Beth din)کے قیام کا بھی کر دیا گیا ہے، جس کا سربراہ بھی یہی یہودی ربائی ’’ایلی عبادی‘‘ ہوگا۔ اس ربائی کے ساتھ دو فقہی ماہرین بھی اسی عدالت کے لئے متحدہ عرب امارات منتقل ہو رہے ہیں۔ یہ یہودی شرعی عدالت یہودیوں کے سول اور مالی معاملات سے متعلق فیصلے کرے گی۔ان بدلتے ہوئے حالات کے بعد خطے میں جو گھمسان کا رن پڑنے والا ہے اس کی خبر سید الانبیاء ﷺ چودہ سو سال پہلے دے چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں