کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

قلم لیکن خیال کی پیروی کرتا ہے۔ نہ کرے تو گل بوٹے کیسے کھلیں۔ خیالات کی اپنی ایک جنت ہے‘ ایک فردوسِ بریں۔ اقبالؔ نے کہا تھا:
اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
پاکستانی تاریخ کے ایک منفرد کردار میجر عامر نے اچانک پوچھا: گلگت بلتستان میں کیا رکھا ہے کہ اس کے گن گائے جاتے ہیں؟۔خود مخاطب کے ذہن میں بھی یہی سوال تھا۔ محمد علی ست پارہ کے لئے بہت سے لوگ دعا کر رہے ہیں۔یہ ناچیز بھی ان میں شامل ہے۔ جی ہاں!یہ ست پارہ ہے۔ نواحِ سکردو کی ایک جھیل‘ جس میں سات چشموں کا پانی گرتا ہے۔ معلوم نہیں کب اور کیوں صد پارہ کا نام اسے دیا گیا۔ شاید اس لئے کہ بولنے میں سہل ہے۔ ایک خیرہ کن منظر جو دیوسنائی جانے والے راستے پر واقع ہے۔ دنیا کا سب سے اونچا میدان۔ مقبوضہ کشمیر کی وادیوں اور بامِ دنیا پامیرسے بھی بلند تر۔ جولائی میں یہاں سینکڑوں قسم کے خود رو پھول کھلتے ہیں ‘ سینکڑوں میل کی وسعت میں پھیلی اس بہارکے لئے کبھی دنیا بھر کے سیاح آیا کرتے۔ وہ پھر سے پلٹ رہے ہیں۔
شاید یہ شمال کی بے کراں وسعتیں ہیں‘ شاید وہ تضاد جو سنگین چٹانوں‘ریگزاروں اور پھر یکایک دکھائی دینے والے چشموں اور سبزہ زاروں میں اجاگر ہوتا اور دلوں کو لبھاتا ہے۔ نثر نگار نے کہا تھا: حسن کو سادگی میں پرکاری اور میدانوں میں ناہمواری کی ضرورت ہوتی ہے۔ شاید یہاں کے پرتپاک مکین، سادہ دل‘ سادہ اطوار، مصنوعی طور پر تیز رفتار ‘ ہیجان سے بھری زندگیوں کیلئے یہ ایک گوشۂ عافیت ہے۔
دورِ جاہلیت میں مکّہ کے مکینوں سے پوچھا جاتا: ایک ذرا سی مسافت پر طائف کے سبزہ زار واقع ہیں‘ وہاں کیوں نہیں جا بستے۔ ان کا جواب یہ ہوتا: معلوم نہیں کیوں دل مکّہ میں لگتا ہے۔
یورپ میں اور بہت سے دلکش دیار ہیں’ پیرس ہی کو خلق کیوں کھچی چلی جاتی ہے۔طارق پیرزادہ کہتے ہیں: اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اولیا نے اس کی بنیاد رکھی تھی۔ تو پھر لاہور کا جلوہ کیا شیخِ ہجویر کا مرہون منت ہے؟ جی ہاں جہاں کہیں کسی فقیر نے قدم رکھا ہے‘ ہمیشہ کی برکت اسے عطاکی گئی۔ یہ ہزاروں سال کے تاریخی تجربے کا حاصل ہے کہ بعض بستیاں زیادہ عزیز ہوتی ہیں۔ آدمیت پر جو احسانات راہِ سلوک کے مسافروں نے کئے ہیں‘ ان کی تاریخ اگر لکھی جائے؟
پانچ سو برس ہوتے ہیں۔ ایران سے ایک مسافر نے کشمیر کا رخ کیا۔ ایک ہزار برس ہوتے ہیں، برصغیر پر سب سے زیادہ مستند مانی جانے والی کتاب ’’الہند‘‘ کے مصنف البیرونی نے لکھا ہے: وادی میں کسی غیر یہودی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ جی ہاں سچ یہی ہے‘ باقی کہانیاں ہیں۔ پانچ ہزار برس سے سرزمین شام کی طرف ہجرت ہوتی رہی اور شام سے ہجرت ہوتی رہی۔ انسانی تاریخ کا آخری باب بھی شاید وہیں لکھا جائے گا۔ عیسیٰ علیہ السلام کا جہاں نزول ہو گا اور دجال کے خلاف فیصلہ کن معرکہ۔
شاہ ہمدان نے کشمیر کا قصدکیا تو اسی شمال سے گزرے تھے۔ علی ست پارہ نے جسے دنیا بھر میں اجاگر کیا ہے‘اللہ اسے سلامت رکھے۔ انہی کے ہاتھ پر ہمارا شمال اور کشمیر کے مکین مسلمان ہوئے۔ کیا ان کا کہیں مزار ہے؟ کیا ان کی کوئی سوانح ہے؟۔
اللہ کے ان بندوں میں سے ایک جو سرزمین کا مقدر بدل ڈالتے ہیں۔ دوسری بار وہ آئے تو ان کے ساتھ پیپرماشی کے اساتذہ ‘ لکڑی پہ نقش و نگار کھودنے اور نیلی ٹائلیں بنانے کے ہنر مند بھی تھے۔ وہ ٹائلیں جن پر ایران‘ برصغیر اور وسطی ایشیا کا فن تعمیر استوار ہے۔ چھ سات سو برس پہلے‘ ایران اور وسطی ایشیا میں اس کا آغاز ہوا۔ ہنر مندوں نے پھر وہ عمارتیں تخلیق کیں کہ جب تک گردش لیل و نہار قائم ہے‘ نگاہوں کو خیرہ اور حسنِ ذوق کو آسودہ کرتی رہیں گی۔ لہک لہک کر نوابزادہ نصراللہ خان پڑھا کرتے:
حسن جس رنگ میں ہوتا ہے جہاں ہوتا ہے
اہل دل کے لئے سرمایۂ جاں ہوتا ہے
شمشیر بدست اور کتاب بدست ‘ عالم عرب‘ وسطی ایشیا‘ ایران اور افغانستان سے آنے والے قافلوں نے اس تہذیب کو جنم دیا‘ جسے گنگا جمنی ثقافت کہا جاتا ہے۔ عربی ‘ فارسی اور ہندی کے سوا بھی کئی رنگ۔
تیس برس ہوتے ہیں‘ آغا خان فائونڈیشن نے دنیا بھر کے منتخب ماہرین تعمیرات کو پیرس میں جمع کیا کہ کرہ خاک کی جمیل و جلیل عمارتوں کی فہرست مرتب کریں۔ شاہ رکنِ عالم کے مزار کو فن تعمیر کا سب سے بڑا معجزہ قرار دیا گیا۔ تاج محل دوسرا اور افریقہ کی ایک کچی مسجد تیسرا۔ ایسا کیوں ہے کہ دنیا کو مولانا روم سے لے کر سلطان باہو تک‘ بہترین شاعری‘ تصوف کی شاعری ہے‘ ایسا کیوں ہے کہ دنیا کی بہترین عمارتوں میں سے اکثرکا تعلق ایقان اور عقیدے کے ساتھ ہے‘ اقبالؔ نے کہا تھا:
جہان تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا
بے شک نہیں ہوتے‘ لیکن خود اقبالؔ ہی کے بقول آدمی خوگر پیکر محسوس ہے۔ اس کے جذبات و احساسات‘ اس کا ذوقِ نظر متشکّل ہونے کی آرزو کرتا ہے ۔گاہے سنگ و خِشت بھی اسے درکار ہوتے ہیں۔بادشاہی مسجد کا پتھر میاں میر کا مزار تعمیر کرنے کیلئے لایا گیا تھا۔ عالمگیر نے اسے عبادت گاہ بنا دیا۔ میاں میر زندہ ہوتے تو اس پر صادنہ کرتے؟
عالمگیر کی نفرت میں داراشکوہ کو ایک درویش بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ بڑی حد تک یہ کوشش کامیاب رہی۔ تاریخ کی شہادت مگر مختلف ہے۔ میاں میر کی خدمت میں داراشکوہ حاضر ہوا۔ عرض کیا:دکن کی تسخیر کے لئے جاتا ہوں‘ دعا کیجیے‘ مال غنیمت فراواں عطاہو۔ اتنے میں ایک عامی نے ایک روپیہ دونوں ہتھیلیوں پر رکھ کے نذر کیا۔ پوچھنے پر بتایا: حضور میں چوری کیا کرتا تھا۔ آپ کے ہاتھ پر توبہ کی۔ اب مزدوری کرتا ہوں۔ایک ایک پیسہ بچاتا رہا۔ آج نذر کرنے آیا ہوں۔ شہزادے کی طرف اشارہ کیا: اسے دے دو‘ اسے روپے کی ضرورت ہے۔ بہت ضرورت ہے۔
اپنے اصحابؓ سے رحمتہ للعالمینؐ نے پوچھا: وہ کون سا دینار ہے جو ہزاروں دنیا پہ بھاری ہے؟ پھر ارشاد کیا: اگر کسی کے پاس دو دینار ہوں اور ان میں سے ایک عطیہ کر دے۔ اس فقیر کے کیا کہنے‘ اس شہزادے کے کیا کہنے۔
دارا شکوہ کے اٹالین توپچی نے اپنی خود نوشت میں لکھا: وہ ایک بدتمیز آدمی تھا‘ اپنے امرا اور جنرلوں تک کو جھڑک دیا کرتا‘ حالانکہ عالمگیر کے باب میں وہ داراشکوہ کا حامی ہے۔ اس کتاب کو شاید دوبارہ پڑھنا چاہئے۔ اللہ جانے لائبریری میں کہاں رکھی ہے۔
ارادہ یہ تھاکہ شمال کے سفر کی روئیداد لکھی جائے۔علی ست پارہ کے طفیل اکیس برس بعد ‘ جس کی یادیں قلب و جاں میں جاگ اٹھی ہیں۔
قلم لیکن خیال کی پیروی کرتا ہے۔ نہ کرے تو گل بوٹے کیسے کھلیں۔ خیالات کی اپنی ایک جنت ہے‘ ایک فردوسِ بریں۔ اقبالؔ نے کہا تھا:
اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

اپنا تبصرہ بھیجیں