پاکستان اور حیاتِ جنگلی… (آخری حصہ)

پاکستان میں پرندوں کی حد تک تیتر، بٹیر، تلیّر، فاختہ، ہریل، سیسی اور بھٹ تیتر عام نظر آتے تھے لیکن بندوقچیوں نے ہر چیز کا صفایا کر دیا ہے۔ اوپر سے نئی مصیبت یہ آئی کہ چھروں والی ایئرگن کا ایک نیا ورژن ”پری چارجڈ نیئومیٹک ایئرگن‘‘ جسے عرف عام میں پی سی پی ایئرگن کہتے ہیں مارکیٹ میں آگیا۔ یہ ایسی چھروں والی بندوق ہے جس کے ساتھ نہایت ہی زیادہ پریشر والا ایئر سلنڈر لگا ہوتا ہے۔ اس میں ہوا کا دبائو دو سو بار سے بھی زیادہ ہوتا ہے یعنی سی این جی کے کمپریسر کے برابر پریشر۔ اس کی رینج بے تحاشا زیادہ ہونے کے ساتھ چھرے کی ہلاکت خیزی بہت بڑھ گئی۔ ستم بالائے ستم یہ ہواکہ لڑکوں نے اس ایئرگن پر سائلنسر لگوا لئے۔ اب یہ خاموش بندوق بن گئی۔ اس کے لیے لائسنس درکار نہ تھا لہٰذا جس نے چاہا خرید لی اور ایک درخت یا تار پر بیٹھی ہوئی درجن بھر فاختائوں کو ایک ایک کرکے مار گرایا۔ نہ آواز آئی نہ دھماکہ ہوا اور نہ ہی باقی بیٹھی ہوئی فاختائیں یا اور پرندے ڈر کراڑے۔ شکاری نے گھنٹہ بھر میں درجنوں پرندے شکار کیے اور ان کی تصاویر فیس بک پر اپ لوڈ کرکے ڈھیروں لائکس بٹور لیے۔

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے بلوچستان میں تو اس بندوق کو بلا لائسنس ایئرگن کی کیٹیگری سے نکال کر اسے غیر ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس والی کیٹیگری میں ڈال دیا ہے۔ بلوچستان میں ہونے والی اس مثبت پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب میں بھی حیاتِ جنگلی کے تحفظ کیلئے کام کرنے والوں نے اس قسم کی پابندی کیلئے کوششیں شروع کر دیں۔ لاہور سے فرحان انور نے اس سلسلے میں بڑی دوڑدھوپ کی اور متعلقہ لوگوں کو مل کر نہ صرف اس پی سی پی ایئر گن کیلئے بلوچستان کی طرز پر لائسنس کی تجویز کو حکام بالا تک پہنچایا بلکہ کئی پرندوں کو جو پہلے پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ 2007ء کے شیڈول I میں تھے‘ انہیں شیڈول III میں شامل کرنے کی سفارشات تیار کروائی ہیں تاکہ ان پرندوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ پی سی پی ایئرگن کو غیرممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس والی کیٹیگری میں شامل کرنے سے پرندوں کے ظالمانہ حد تک شکار کرنے والی صورتحال بھی اسی صورت میں بہتر ہو سکتی ہے اگر شکار کیلئے کھلی چھوٹ کے بجائے قانونی پابندیوں پر سختی سے عمل کروایا جائے‘ بصورت دیگر پی سی پی کو غیرممنوعہ بور کے لائسنس والی کیٹیگری میں ڈالنے کے باوجود صورتحال میں بہتری ممکن نہیں۔ اس کیلئے شکار کے لائسنس کی پابندی کے ساتھ عائد کردہ دیگر تصریحات پر عمل کرنا ضروری ہے‘ جس میں محفوظ علاقوں، محفوظ پرندوں اور جانوروں کے شکار پر پابندی اور سیزن کے دوران شکار کی تعداد پر عمل کرنا شامل ہے۔ صرف شکار کا لائسنس لے کر بے تحاشا یا ان گنت پرندے وغیرہ شکار کرنا ہمارے ہاں بالکل عام سا چلن ہے۔

میں برادر بزرگ کے ساتھ اٹلانٹا (جارجیا) سے ساتھ والی ریاست ٹینیسی کے شہر گیٹلنبرگ جا رہا تھا تو راستے میں سڑک کے بالکل ساتھ جنگل میں سے ایک ایلک (بڑے سائز کا بارہ سنگھا ٹائپ ہرن) نکلا اور سڑک پر چہل قدمی کرتا ہوا دوسری طرف واقع سرسبز گھاس کے میدان میں جاکر چرنے لگ گیا۔ راستے میں تین جگہ پر وائٹ ٹیل ڈیئر دکھائی دیئے جو بڑے اطمینان سے سڑک پار کر رہے تھے۔ اچھی بھلی آبادیوں کے درمیان واقع درختوں کے جھنڈ اور گھاس کے میدان ان ہرنوں کی پناہ گاہ اور چراگاہ کا کام دیتے ہیں اور یہ ہرن بلا خوف وخطر ٹریفک کے درمیان ایک سے دوسری طرف آتے جاتے رہتے ہیں۔ سڑک پار کرتے ہوئے ان کے اطمینان کا عالم یہ ہے کہ دوران سفر تقریباً ہرروز ایک دو مرے ہوئے ہرن سڑک کے اطراف نظر آتے تھے۔ نہ ان کو گاڑیوں کا خوف ہے اور نہ ہی انسانوں کا۔

میں ایک صبح برادرم اعجاز احمد کے گھر کے عقبی لان میں کافی کا کپ ہاتھ میں لیے گھوم رہا تھا کہ کیا دیکھتا ہوں لان کے پیچھے والے درختوں میں سے چار پانچ سفید دم والے ہرن لان میں موجود چھوٹے سے تالاب سے پانی پینے کے لیے آ رہے ہیں اور مجھے دیکھ کر ٹھٹک گئے ہیں۔ میں نے ان کا جھجکنا دیکھا تو ایک طرف ہو گیا۔ وہ آئے، سکون سے پانی پیا، میری طرف شکر گزار نظروں سے دیکھا (کم از کم مجھے تو ایسا ہی لگا تھا) اور دھیرے دھیرے چلتے ہوئے درختوں میں اوجھل ہو گئے۔

امریکہ میں لوگوں کے پاس اسلحے کی بہتات ہے۔ کئی ریاستوں میں تو اسلحہ کا لائسنس ہی نہیں ہے۔ جہاں ہے وہاں بھی اس کا حصول اتنا آسان اور تیز ہے کہ یقین نہیں آتا۔ ڈرائیونگ لائسنس دکھائیں اور اسلحہ رکھنے کا پرمٹ لے لیں۔ اسلحہ بھی اس قسم کاکہ ہمارے ہاں اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں شہریوں کے پاس تقریباً پینسٹھ کروڑ کی تعداد میں ہتھیار ہیں اور ان میں سے چالیس کروڑ ہتھیار صرف امریکیوں کے پاس ہیں۔ یہ دنیا بھر میں شہریوں کے پاس موجود اسلحہ کا اکسٹھ فیصد ہے۔ ہر امریکی شہری کے پاس اوسطاً 1.3 ہتھیار ہیں۔ یہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ نسبت ہے۔ خود برادرم اعجاز احمد کے پاس دس بارہ ہتھیار ہیں لیکن کسی کی مجال نہیں کہ بغیر پرمٹ کے، شکار کے سیزن کے علاوہ اور پرمٹ کی تعداد سے زیادہ یا مادہ جانور کا شکار (جہاں اس پر پابندی ہے) کر سکے۔ قانون کی پابندی کے پیچھے اصل روح اس کا سختی سے بلاتخصیص نفاذ ہے وگرنہ انسان بنیادی طور پر اندر سے قانون شکن ہی ہے اور امریکی تواس معاملے میں دنیا بھر میں سب سے آگے ہیں۔

اگر صرف سفید دم والے ہرن کی بات کی جائے تو امریکہ میں اس ایک نسل کے ہرنوں کی تعداد تین کروڑ سے زائد ہے۔ سال میں دوماہ کیلئے شکار کا اجازت نامہ ملتا ہے اور امریکی اس کا خوب شکار بھی کرتے ہیں لیکن جانوروں کی آبادی کوایک خاص حد تک محفوظ رکھنے کیلئے ہر سال افزائش نسل اور شکار کے جاری کردہ لائسنسوں میں توازن رکھا جاتا ہے۔ ریاست میسیسیپی میں سفید دم والے ہرنوں کی تعداد چالیس عدد فی مربع کلومیٹر ہے۔ باقی جانوروں کی تعداد بھی کروڑوں میں نہیں تو لاکھوں میں ضرور ہے اورگزشتہ کئی سالوں سے شکاریوں کی تعداد میں اضافے اور جانوروں کے قدرتی ماحول میں کمی کے باوجود ان کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ہمارے ہاں کئی جاندار صفحہ ہستی سے غائب ہو گئے اور کئی اس کے نزدیک ہیں۔ عالم یہ ہے کہ ہم اپنے علاقے کے بھورے ریچھ‘ جو ہمالیائی نسل سے تعلق رکھتا ہے ‘ کو نہیں سنبھال سکے اور دو بھورے ریچھ اردن کے صحرائی علاقے میں قائم وائلڈ لائف ریزرور بھجوانا پڑے۔ کاون ہاتھی کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ دنیا کے سامنے ہے۔ اسے دنیا کا تنہا ترین ہاتھی قرار دیا گیا۔ منکیرہ، لیہ، راجن پور، قلعہ سیف اللہ، رحیم یار خان اور چولستان میں عربوں کو تلور کے شکار کے پرمٹ ملتے ہیں اور پورا پورا علاقہ ان کی صوابدید پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ تلور کے تحفظ کیلئے تمام تر کوششوں کے پیچھے یہی نظریہ کام کررہا ہے کہ انکی پاکستانیوں سے حفاظت کی جائے تاکہ عربی ان کا قتل عام کرسکیں۔ پنجاب میں اب کسی حد تک بدر منیر حیات جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے قابل قدر اقدامات کر رہا ہے اور کئی پرندوں اور جانوروں کو تحفظ والے شیڈول میں لاکر انہیں قتل عام سے بچانے کی کوشش کررہا ہے۔ معدومی کے خدشے سے دوچار بہت سے جانور گلگت بلتستان کے علاقے میں پائے جاتے ہیں اور وہاں کا موجودہ سیکرٹری وائلڈ لائف شاہد زمان بھی حیات جنگلی کے تحفظ کیلئے زیرو ٹالرنس کے فارمولے پر عمل کررہا ہے لیکن یہ کام اکیلے آدمی کا نہیں بلکہ پوری حکومتی مشینری کی ذمہ داری ہے؛ تاہم صورتحال یہ ہے کہ جنہوں نے قانون بنانا اوراس پر عمل کروانا ہے وہی ہمارے ہاں سب سے بڑے قانون شکن ہیں۔ انکے سامنے تو زبان والے زبان نہیں کھول سکتے‘ بے چارے بے زبان کس شماروقطار میں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں