ان نئے شہروں میں مزہ کیا؟

ہر جگہ ڈویلپرز اور ہاؤسنگ سوسائٹیاں‘ نئے شہر آباد کر رہے ہیں۔ اسلام آباد سے موٹروے پہ آئیں تو کچھ عرصہ پہلے جو علاقے ویران تھے اُن پہ شہر یاتو کھڑے ہو گئے ہیں یا کیے جا رہے ہیں۔ نئے ائیرپورٹ کے گرد ایک بہت وسیع ڈویلپمنٹ تیار ہو چکی ہے۔ یہ سلسلہ چل رہاہے اور ہر بڑے شہر کے گرد یہ پھیلاؤ جاری ہے‘ لیکن ان نئی آبادیوں میں ڈھنگ کی کیا بات ہے؟

شاپنگ مالز کا ستیاناس ہو، ہم نے ان سے کیا کرناہے؟ ایک آدھ بڑا مال اسلام آباد میں ہے، کبھی وہاں جانے کو جی نہیں چاہتا۔ لاہور میں دوتین بڑے مال ہیں، وہاں جانے سے بھی گھِن آتی ہے۔ اچھے بھلے بازار ہوا کرتے تھے لیکن اب ان شاپنگ مالز کا رواج چل نکلاہے۔ شہر اور چیزوں سے بنتے ہیں۔ خریدوفروخت کی جگہیں تو ضرورہوں لیکن اگر کسی شہر میں وہ تصور نہیں جسے امریکا میں ڈاؤن ٹاؤن (downtown) کہتے ہیں تو وہ شہر نہیں کہلا سکتا۔ ڈاؤن ٹاؤن کا مطلب ہے ایک ایسا مرکز جہاں پر تھیٹر ہوں، موسیقی سننے کے لئے کنسرٹ ہال ہوں اور پھر انٹرٹینمنٹ (entertainment) کیلئے ایسی جگہیں ہوں جنہیں نارمل دنیا میں نائٹ کلب کہا جاتا ہے۔ خوش نصیب لوگ شام کو گھروں میں پڑاؤ نہیں جماتے۔ جیبوں کی استطاعت ہو توبھلے لوگ شام کی سیر کو نکلتے ہیں۔ کسی بار میں گئے۔ بار کا غلط مطلب نہ لیا جائے، اس سے مراد ایسی جگہیں جہاں لوگ اکٹھے ہوتے ہیں کچھ شغل اورگپ شپ کیلئے۔ ہم تو سیدھے راستے پر چلنے والے لوگ ہیں ‘ ہمارا بار کے باقی لوازمات سے کیا لینا دینا۔ اسی لیے عرض کی کہ اس لفظ سے غلط مطلب نہ نکالا جائے۔ پھر کہیں کھانے کیلئے بیٹھ گئے اور من میں ایسا خیال آئے تو کسی تھیٹر کی طرف چل نکلے۔ خوش نصیبی انسان کی ہو تو شاموں کی ترتیب ایسے ہی ہونی چاہیے۔

گزرے زمانوں میں لاہور اور کراچی میں ڈاؤن ٹاؤن کا باقاعدہ تصور تھا۔ کراچی کے سنٹرل ایریا میں شام کو گہماگہمی ہوا کرتی تھی۔ استطاعت کے مطابق لوگ اپنے شام کے مسکن ڈھونڈا کرتے تھے۔ سستے داموں پہ کام چل جاتا تھا اور جن کے بخت اچھے ہوتے اُن کے لئے پُرتعیش یعنی مہنگی جگہیں دستیاب ہوتیں۔ کراچی کے نیپیئر روڈ پہ بھی خاص گہماگہمی ہوا کرتی تھی۔ اب میں تفصیل سے بتانے سے قاصر ہوں کہ وہاں خاص انٹرٹینمنٹ کس نوعیت کی تھی لیکن اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ وہ جسے ہم لکھنوی کلچر کہہ سکتے ہیں اُس کا مشہورِ زمانہ مرکز تھا۔ کراچی آباد ہونے لگا اور بڑے شہر کی خصوصیات پانے لگا تو نیپیئر روڈ بھی آباد ہوا۔ اب بھی ہے لیکن وہ رعنائی اور آزادی کہاں جو ہوا کرتی تھی۔ ہماری لیفٹینی کی پہلی پوسٹنگ کراچی کے ملیر کینٹ میں تھی۔ تنخواہ اتنی زیادہ نہ ہوا کرتی تھی لیکن پھر بھی کبھی کبھار کراچی کے ڈاؤن ٹاؤن کا رُخ کرتے اور کچھ نہ کچھ گزارا ہو ہی جاتا تھا۔ 

لاہور تو تھا ہی مشہور اپنے رنگینیوں کے حوالے سے۔ اُس زمانے میں لاہور مال پہ مخصوص ہنر کدے آباد تھے اور صاحبِ ذوق لوگ شام ڈھلتے ہی اُن کا رُخ کرتے۔ ہنر کدوں میں قیام ہو تو لازمی امر ہے کہ کچھ دیر بعد بھوک لگ جاتی ہے۔ بھوک مٹانے کیلئے لوگ صفاں والا چوک چلے جاتے، ایبٹ روڈ کا رُخ کیا یا لکشمی چوک چلے گئے۔ باذوق لوگوں کی طبیعت کا ایک خاص پہلو یہ بھی ہوتاہے کہ کچھ کھا پی لیا تو پاپی مَن بادشاہی مسجد کے متصل محلوں کی طرف جانے کا ٹھان لیتا۔ بتائیے اس سے کسی کا کیا نقصان ہوتا تھا؟ معیشت چلتی ہی تب ہے جب پیسے کی سرکولیشن ہو۔ ایک ہاتھ سے آپ کمائیں اور دوسرے سے تھوڑا بہت خرچ کریں۔ ہوٹلوں اور ریستورانوں کا کاروبار چمکتا تھا اور بادشاہی مسجد کے متصل محلوں میں چھوٹے سے چھوٹے موتیے کے پھول بیچنے والوں کے ہاتھ بھی کچھ آ جاتا تھا۔ تکہ کباب کی دکانوں کا کام بھی خوب چلتا تھا۔ اُس زمانے میں لاہور میں تانگہ کی سواری ہوا کرتی تھی۔ ٹیکسیاں بھی چلتی تھیں۔ ان سب کی دیہاڑی بن جاتی تھی۔ اب اُن محلوں میں جائیں تو عجیب اُداسی چھائی ہوتی ہے۔ نہ پان کی دکانیں رہیں نہ موتیے کے پھول بیچنے والے نظر آتے ہیں۔ آپ اِس صورتحال کو ترقی کہیں گے؟ یہ تو تنزلی کی انتہا ہے۔ اور اِس سے فائدہ کس کو ہوا ہے؟

اِس عمر میں ہمیں دونمبرسیاستدانوں سے کچھ واسطہ نہیں۔ جلسے اور ریلیاں ہم بہت بھگتا چکے۔ اِن کی باتیں سُن سُن کے ہمارے کان پک چکے ہیں۔ عمر کے ہر حصے کا اپنا ایک تقاضا ہوتاہے۔ جس عمر میں ہم ہیں یہ کوئی بات بنتی ہے کہ شامیں بوریت کے ایک سماں میں ہم گھر گزاریں؟ موٹر سائیکلوں پہ ون ویلنگ تو ہم کرنے سے رہے۔ نہ وہ ڈھنگ ہم نے سیکھا ہے کہ تھوڑی مستی آ گئی تو کلاشنکوف نکال کے ہوا میں فائرنگ شرو ع کر دیں۔ ہمارا تقاضا کیا ہے؟ صرف اتنا ہی کہ ایسی جگہیں ہوں جہاں لائٹیں مدہم ہوں، دروازے پہ بھینی مسکراہٹ لیے کوئی مدعو کرنے والا کھڑا ہو۔ اندر جائیں، ایک ٹیبل ہمارے لیے وقف ہو۔ ویٹر کو پتا ہو کہ صاحب کیا شوق رکھتے ہیں اور اس شام بھی کیا کریں گے۔ کچھ وقت ایسے ماحول میں گزار لیا، وہیں ہلکا سا کھانا کھا لیا۔ سٹیج پہ کوئی پرفارمنس ہورہی ہو وہ دیکھ لی۔ کچھ ٹپ سٹیج پہ پرفارم کرتے آرٹسٹوں کو بھجوا دی، کچھ ٹپ ویٹرز کو دی اور ہلکا سا جھومتے ہوئے اُٹھ کے اپنے گھر لوٹ آئے یا اُس سرائے میں گئے جہاں قیام کا بندوبست ہو۔ 

اپنے لوگوں کے لئے ہم نے چھوڑا کیا ہے؟ نوجوان ون ویلنگ نہ کریں تو کیا کریں؟ کوئی اور شغل ہم نے اُن کے لئے چھوڑا ہے؟ باہر کی دنیا میں تھوڑے سے پیسے بھی جیب میں ہوں تو نوجوانوں کیلئے کرنے کو بہت کچھ ہوتا ہے۔ یہاں ہم نے منافقت کے فروغ میں نوجوان نسل کی مَت مار دی ہے۔ لہٰذا یہ کوئی عجب بات نہیں کہ قومی تہوار ہوتے ہیں اور لاہور جیسے شہر میں بھی بیشتر نوجوان موٹر سائیکل نکال کے سڑکوں پہ نکل آتے ہیں۔ ساری کی ساری شام موٹر سائیکلوں سے جو وہ خاص اُونچی آواز اُٹھتی ہے اُس میں رات گزر جاتی ہے یا لوگ چھتوں پہ چڑھ کے بندوقیں آسمان کی طرف کرکے فائرنگ شرو ع کر دیتے ہیں۔ ہمارے یہاں ذوق کا یہ معیار رہ گیا ہے۔ 

1995ء میں مجھے انگلستان کے شہر آکسفورڈ میں تین ماہ گزارنے کا اتفاق ہوا۔ ایک کالج میں فیلوشپ ملی تھی تو اُس حوالے سے وہاں گیا تھا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی ڈھیر سے کالجوں کا مجموعی نام ہے۔ جمعے اور ہفتے کی شام اُس شہر میں عجیب سماں ہوتا۔ کالجوں میں پارٹیاں چل رہی ہوتیں اور شام کا جومخصوص کالا سوٹ انگریز لوگ پہنتے ہیں وہ پہنے ایک جگہ سے دوسری جگہ جارہے ہوتے۔ یہاں پہ اپنے کالجوں اور یونیورسٹیوں کا ہم نے کیا حال بنارکھا ہے۔ ایسے ماحول میں نوجوان ذہنوں کی کیا تربیت ہو سکتی ہے؟ جو انسان میں ایک اعتماد آنا چاہیے وہ اس دقیانوسی ماحول میں کیسے آ سکتا ہے؟ خواہشات کو تو نہیں مارا جا سکتا لیکن ماحول ہمارے جیسا ہو تو پھرجو کرنا ہے چھپ چھپ کے اور چوروں کی طرح کرنا پڑتا ہے۔ یعنی چوری چکاری کا سبق معاشرے کی قدغنیں ہمیں سکھاتی ہیں۔ پھر ہم یہ کہتے ہیں کہ ملک کیسے ٹھیک ہو گا۔ ملک کے حالات کیسے سدھریں گے۔ ہمیں اچھے لیڈر کہاں سے ملیں گے۔ انگلستان کے حکمران طبقات آکسفورڈ اور کیمرج یونیورسٹیوں میں تیار ہوتے ہیں۔ ہماری جو جامعات ہیں اور وہاں جو ہم نے ماحول بنا رکھا ہے اُس سے خاک کوئی اچھی قیادت پیدا ہو سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں