رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم کی ناکامی‘ اسباب اور اثرات

پارلیمانی امور کمیٹی نے الیکشن ایکٹ میں ترامیم سے متعلق تمام بلز پر غور و فکر مؤخر کر دیا ہے جس میں الیکشن ترمیمی بل 2019ئ‘سینیٹ الیکشن میں اوپن میرٹ ترمیمی بل 2020 ء اوربائیومیٹرک الیکٹورل ووٹنگ بل 2020ء شامل ہیں۔ اسی پس منظر میں سینیٹ الیکشن سے متعلق صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ بھیجوانا میری رائے میں قبل از وقت تھا کیونکہ وفاقی حکومت نے اوپن میرٹ پر آئینی ترمیم کا بل 29 اکتوبر 2020ء سے قومی اسمبلی میں پیش کر رکھا ہے اور یہ بل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں زیر غور ہے۔تاہم وفاقی حکومت آئینی ترمیمی بل کیلئے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں اور اٹارنی جنرل کی سفارشات پر اب وفاقی حکومت ریفرنس کے ذریعے آئین اور پارلیمنٹ سے بالا یہ ظاہر کرنا چاہتی ہے کہ سینیٹ الیکشن آئین کے تحت نہیں ہوتے‘ لہٰذا آئینی ترمیم درکار نہیں حالانکہ میری رائے میں سینیٹ الیکشن کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 218‘ 213اور224 میں واضح طور پر نشاندہی کی گئی ہے اور آئین کے ان آرٹیکلز کے نیچے الیکشن ایکٹ 2017ء میں دفعہ 201 سے 230 تک مکمل طریقہ کار واضح کیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کے تمام الیکشن خواہ وہ کسی بھی سسٹم میں یا انتخابی قوانین کے تحت ہوتے رہے ہیں‘ متنازع صورتحال اختیار کیے ہوئے ہیں اور ہماری اپوزیشن نے انتخابات میں کامیابی حاصل نہ ہونے پر‘ انتخابی سسٹم میں سقم اور حکومتوں کی مداخلت کی وجہ سے ہمیشہ سسٹم کو ہی تنقید کا نشانہ بنائے رکھا ‘ حالانکہ 1956ء سے اب تک جتنے بھی چیف الیکشن کمشنر زاور ارکانِ الیکشن کمیشن آئے ہیں انہوں نے آئین اور قوانین کے مطابق انتخابات کرائے ‘ باوجود اس کے کہ وہ ہمیشہ تنقیدکی زد میں رہے۔

انتخابی اصلاحات کمیٹی نے غیر ملکی این جی اوز‘ جن کو یورپی ممالک سے فنڈنگ ملتی ہے‘ کی مشاورت سے انتخابی اصلاحات میں ایسی شقیں شامل کرلیں جو فرسودہ اور ناقابلِ عمل تھیں اور اس کا سبب یہ نہیں کہ ملک کے انتخابی قوانین فرسودہ ہوگئے تھے‘ بلکہ یہ انتخابی اصلاحات کمیٹی کے ارکان کی دانشمندی کے فقدان کا مظہر تھا۔ انتخابی اصلاحات کمیٹی کے ارکان میں اتنی استعداد نہیں تھی کہ پوری صورتحال پر نظر رکھتے۔اگر چہ انہوں نے غیر ملکی این جی اوز کی ایماپر جدید الیکٹرانکس سسٹم کا سہارا لے کر رائے قائم کی‘مگر جسے ہم سائنسی انقلاب سمجھ رہے تھے وہ شفافیت کے بجائے متنازع بن گیا اور اس کی اہم وجہ یہ تھی کہ انتخابی اصلاحات کمیٹی کے ارکان جدید ٹیکنالوجی کو سمجھنے سے قاصر تھے۔ ان کو پاکستان کی 70 فیصد دیہی ووٹروں کی صلاحیتوں کا بھی اندازہ نہیں تھا۔ انتخابی اصلاحات کمیٹی کے ارکان چونکہ اسحاق ڈار اور زاہد حامد کی سربراہی میں کام کر رہے تھے اور زاہد حامدملک کی اہم این جی اوز کے زیر اثر تھے؛چنانچہ انہوں نے رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم کو الیکشن کمیشن کو اعتماد میں لیے بغیر الیکشن ایکٹ 2017 ء کی دفعہ 13 کا حصہ بنا دیا اور اس کام میں انتخابی اصلاحات کمیٹی کے ارکان نے زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے الیکشن 2013 ء کے تجربات کو بھی سامنے نہیں رکھا۔ یاد رہے کہ 2013 ء کے انتخابات کیلئے اقوام متحدہ کے ادارے نے جدید ترین انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت ایسا سسٹم ایجاد کیا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ اس سسٹم سے ریٹرننگ افسران کے دفاتر سے رزلٹ فوری طور پر الیکشن کمیشن تک پہنچانے میں وقت کی بچت ہو اور رزلٹ میں گڑبڑ کرنے کا جواز پیدانہ ہو‘ مگر 11 مئی 2013ء کی رات گیارہ بجے یہ سسٹم فیل ہوگیا حالانکہ اقوام متحدہ کے ادارے نے اس پراجیکٹ پر چالیس کروڑ روپے خرچ کیے تھے۔اقوام متحدہ کے ادارے کے اُس وقت کے کنٹری ڈائریکٹر نے اپنے الوداعی پیغام میں اس سسٹم کی ناکامی پر معنی خیز تبصرہ بھی کیا تھا۔ وزیر برائے انصاف و قانون زاہد حامدکویہ حقائق سامنے رکھنے کے علاوہ آر ٹی ایس کو الیکشن ایکٹ 2017 ء کی دفعہ 13 کا حصہ بناتے وقت پچاسی ہزار سے زائد افسران کی تعلیمی قابلیت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے تھا کہ ملک کے دور دراز علاقوں میں قائم پولنگ سٹیشنوں پر یہ جدید نظام کیسے کامیابی سے ہمکنار ہو سکے گا؟

آر ٹی ایس سسٹم کو جب اپنایا گیا تو الیکشن کمیشن کی اس وقت کی انتظامیہ کو ادراک ہی نہیں ہو سکا کہ بین الاقوامی ماہرین اپنے سسٹم کو روشناس کرا کر بین الاقوامی مارکیٹنگ کر رہے تھے اور نادرا نے بھی اس سسٹم کو نصب کرنے کیلئے الیکشن کمیشن سے اٹھارہ کروڑ روپے حاصل کرتے ہوئے ٹینڈر سے استثنیٰ حاصل کیا اور آڈٹ سے محفوظ رہنے کیلئے انتہائی دانشمندی سے وزارتِ خزانہ سے براہ راست ادائیگی کروائی‘ حالانکہ یہ سسٹم کسی ایجنسی کے ذریعے حاصل کرنا چاہیے تھا جو اس پورے سسٹم کو زمینی حقائق کے مطابق نصب کراتا۔ نادرا کے چیئرمین مبین یوسف اپنے ادارے کی محلاتی سازش کی وجہ سے انتہائی بے بس اور کمزور رہے‘ ان کے ادارے کے چند ڈائریکٹر جنرلز ان کے کنٹرول میں نہیں تھے۔ دراصل نادرا کے چیئرمین کی تقرری کیلئے اُس وقت کے وزیر داخلہ احسن اقبال نے رولز میں نرمی کرتے ہوئے ان کو شارٹ لسٹ کرایا اور ان کا تقرر عمل میں لایا گیا۔ اگرچہ مبین یوسف بین الاقوامی شہرت کے حامل جدید ترین ٹیکنالوجی کے ماہر ہیں‘ بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی تقرری کی توثیق بھی کر دی تھی لیکن ذہنی طور پر نادرا کے چیئرمین پریشان رہے اور ان کی گرفت اپنے ادارے پر نہ ہونے کے برابر تھی۔ ان حالات میں جب نادرا نے الیکشن 2018ء کے تحت آر ٹی ایس کا نظام الیکشن کمیشن کے حوالے کیا تو اس پر سو فیصد کنٹرول نادرا کا ہی تھا اور نادرا نے آر ٹی ایس کے استعمال کیلئے الیکشن کمیشن میں پریزائیڈنگ افسران کی تیاری کا بندوبست بھی کرایا۔ الیکشن کمیشن کی اس وقت کی انتظامیہ نے اس اہم ٹاسک کیلئے جدید ترین سہولتیں فراہم کیں اور ماسٹر ٹرینرز تیار کرائے اور انہوں نے اس کے استعمال کا طریقہ بھی بتایا‘ مگر 25 جولائی 2018ء کو جب انتخابات کا عمل شام پانچ بجے ختم ہوا اور گنتی کا عمل بھی رات گئے تک مکمل ہو رہا تھا اور جب پریزائیڈنگ افسران نے اپنے اپنے پولنگ سٹیشنوں سے آر ٹی ایس کے تحت فارم 45 کو اپنے اپنے موبائل فون کے ذریعے ریٹرننگ افسران کو بھجوانا شروع کیا تو رات 10 بجے یہ سسٹم اچانک فیل ہو گیا۔ پریزائیڈنگ افسران اس جدید ترین سسٹم کو چلانے یا معمولی خرابی کو دور کرنے کے طریقہ کار سے نابلد تھے‘ لہٰذا الیکشن کمیشن نے جس شفافیت کیلئے اسے حاصل کیا تھا ‘ الیکشن کمیشن کی وہ منصوبہ بندی زمین بوس ہو گئی۔ دراصل انٹرنیٹ کی رفتار اتنی کمزور تھی کہ رزلٹ جو فارم 45 پر تیار کیا گیا تھا وہ وٹس ایپ کے ذریعے بھجوانے میں ناکام رہا ۔ بدحواسی کے عالم میں پریزائڈنگ افسران نے فارم 45 کو مکمل کرتے ہوئے الیکشن ایکٹ 2017ء کی دفعہ 90 کی ذیلی دفعہ 16 کو بھی نظر انداز کر دیا‘ جس میں واضح طور پر ہدایت تھی کہ اگر کسی وجہ سے پولنگ ایجنٹس فارم 45 پر دستخط نہ کرے تو اس کی وجہ فارم 45 پر درج کرے۔ پریزائیڈنگ افسران نے اپنی کوتاہی اور قوانین سے نابلد ہونے کی وجہ سے فوری طور پر ریٹرننگ افسران کو رزلٹ دستی طور پر پہنچا نا شروع کر دیا اور ریٹرننگ افسران نے بھی فارم 45 کا جائزہ نہیں لیا ۔

آر ٹی ایس سسٹم کا موجد نادرا تھا ‘ مگر نادرا اپنے سسٹم کی خرابی کی ذمہ داری نہ لیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو مورد الزام ٹھہراتا رہا ہے جبکہ الیکشن کمیشن نے ناکامی کے اسباب جاننے کیلئے کیبنٹ سیکرٹری اور ایف آئی اے کو بھی خطوط لکھے تھے جن پر آج تک عملدرآمد نہیں ہوا اور اپوزیشن نے الیکشن کمیشن اور نادرا کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے الیکشن میں دھاندلی کے بے معنی الزامات لگانا شروع کر دیے‘ حالانکہ میری رائے میں سسٹم کے فیل ہونے کا ذمہ دار نادرا ہی تھا‘ لیکن الیکشن کمیشن نے مزید متنازع ہونے سے گریز کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرلی‘ جس کا فائدہ اپوزیشن نے اٹھا یا اور اب تک اٹھائے جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں