اور اب ’’گائے سائنس‘‘

سوچنے والے سوچ سوچ کر تھک گئے، بلکہ ہار مان لی اور ہار کیونکر نہ مانتے؟ مودی سرکار کی اور اُس کی کسی بھی پالیسی کی کوئی ایک کَل بھی سیدھی نہیں۔ اس سرکار کے حوالے سے کچھ سمجھ میں آئے تو انسان کچھ سوچے اور کسی نتیجے تک پہنچے۔ بھارتی وزیر اعظم کی سوچ جلیبی کی نقل کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔ اُن کی ترتیب دی ہوئی پالیسیوں میں بھی ٹیڑھ نمایاں ہے۔ جب سوچ ہی میں ٹیڑھ ہوگی تو عمل میں کجی کیونکر پیدا نہ ہوگی؟ نتیجہ دیکھ لیجیے۔ بھارتی تہذیب کے گُن گانے والوں نے چُپ سادھ لی ہے۔ مودی سرکار نے معقولیت کے مکمل تیاگ کی قسم کھاتے ہوئے روزِ اوّل سے گائے کی دُم پکڑ رکھی ہے۔ 

اہلِ بھارت ہزاروں سال سے گائے کو مقدس قرار دیتے آئے ہیں۔ یہ اگرچہ غیر منطقی بات نہیں کیونکہ ایک زمانے سے بھارت میں گائے دیہی معیشت و ثقافت کا حصہ ہے۔ گائے کی موجودگی گھر کی خوش حالی کا سامان کرتی ہے۔ آج بھی دیہی بھارت کے لیے گائے بہت اہم ہے مگر اِسی حقیقت کو بنیاد بناکر انتہا پسند ہندو آج تک مسلمانوں کے خلاف مورچہ لگائے ہوئے ہیں۔ گائے کے ذبیحہ پر پیدا ہونے والے اشتعال کی آڑ لے کر مودی سرکار معاملات کو مزید الجھاتی رہی ہے۔ بھارت کی متعدد ریاستوں میں گائے کے ذبح پر پابندی ہے۔ متعدد؟ جی ہاں! تمام ریاستوں میں گائے ذبح کرنا ممنوع نہیں۔ مغربی بنگال اور جنوبی ریاستوں میں گائے کا گوشت کھایا جاتا ہے۔ البتہ جن ریاستوں میں گائے ذبح کرنا ممنوع ہے وہاں گائے ذبح کرنے والے کو سات سال قید اور دس لاکھ روپے تک کے جرمانے کا سامنا ہوسکتا ہے۔البتہ کسی اقلیت بالخصوص مسلمان کو مارنے پر کوئی پابندی نہیں‘ سزا بھی نہیں!

گائے کے نام پر مودی سرکار نے ایسے ایسے ڈرامے کیے کہ انسان دیکھے تو ہنسی نہ تھمے۔ شمالی بھارت میں ایک زمانے سے یہ تصور موجود رہا ہے کہ گائے کے گوبر میں بھی بہت سی بیماریوں کا علاج پوشیدہ ہے۔ ڈیڑھ عشرے کے دوران نریندر مودی اور اُن کے ”فکری‘‘ ساتھیوں نے عام، سادہ مزاج ہندوؤں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ گائے کے گوبر میں بیماریوں کا علاج ہی پوشیدہ نہیں بلکہ عمومی صحت کا معیار بلند کرنے کی صلاحیت بھی پائی جاتی ہے۔ انتہا پسند ہندوؤں نے اتر پردیش، مدھیہ پردیش، گجرات اور مہا راشٹر میں ہندوئوں کو گائے کے پیشاب اور گوبر سے بنائی ہوئی دواؤں اور ”ٹانک‘‘ کا عادی بنانے کی بھرپور کوشش کی ہے!

شاید یہ کافی نہ تھا۔ انتہا پسند ہندوؤں نے ووٹ بینک مضبوط رکھنے کے لیے اب ایک قدم آگے جاکر گائے کو ہندوؤں کی نفسی ساخت میں کھونٹے کی طرح گاڑے رکھنے کے لیے ”علمی محاذ‘‘ کا سہارا لیا ہے۔ مودی سرکار نے ”گائے سائنس‘‘ کے نام سے نئے مضمون پر مبنی آن لائن پرچہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ مودی سرکار کی تشکیل کردہ تنظیم ”راشٹریہ کامدھینو آیوگ‘‘ کو گائے سے متعلق عوام کی معلومات کا جائزہ لینے کے لیے ”گائے سائنس‘‘ کا امتحان لینے کی اجازت دی ہے۔ سرکاری سطح پر ملک بھر میں 25 فروری کو ”گائے سائنس‘‘ کا آن لائن پرچہ لیا جائے گا۔ ایک گھنٹے کے پرچے میں بچوں، بڑوں اور غیر ملکیوں سے ہندی، انگریزی اور 12 علاقائی زبانوں میں 100 سوالات پوچھے جائیں گے۔ راشٹریہ کامدھینو آیوگ کے سربراہ ولبھ بھائی کتھریا نے میڈیا کو بتایا کہ کامیاب امیدواروں کو انعامات دیے جائیں گے اور اسناد تقسیم کی جائیں گی۔ امتحانی مواد میں یہ بات بھی شامل کی گئی ہے کہ گائے کو ذبح کرنے سے زلزلے آتے ہیں! ولبھ بھائی کتھیریا کا مزید کہنا ہے کہ لوگ جانوروں کی حقیقی معاشی اور سائنسی قدر سے واقف نہیں۔ امتحان کا مقصد عوام پر گائے کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔

ایک زمانے سے دنیا بھارت میں بنیادی حقوق کی دہائی دے رہی ہے۔ اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں سے بی جے پی کی حکومت نے جو سلوک روا رکھا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ بھارت بھر میں مسلمانوں سے شدید امتیازی سلوک روا رکھنے کے بعد مسیحیوں اور سکھوں کو بھی نشانے پر لے لیا گیا۔ اس کے بعد کشمیریوں کی باری آئی۔ مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھارت کا سَر شرم سے جھکادینے کے لیے کافی ہے۔ جو لوگ بھارت کی تہذیب اور ثقافت کے گُن گاتے نہیں تھکتے تھے اُن کے پاس بھی اب کہنے کے لیے کچھ نہیں بچا۔ جو کچھ مودی سرکار کر رہی ہے وہ بھارت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔بی جے پی نے ”چمکتا دمکتا‘‘ کا نعرہ لگاکر اقتدار حاصل کیا تھا۔ پہلے دورِ حکومت میں وہ مسلمانوں پر خار اتارنے سے زیادہ کچھ نہ کر پائی۔ انتہا پسند ہندو نوجوانوں کی اکثریت اِسی میں خوش تھی کہ مسلمانوں کے جان و مال سے کھیلنے کی آزادی میسر ہے! مسلمانوں کے ساتھ ساتھ مسیحیوں اور سکھوں کو بھی نشانے پر رکھنے کا عمل جاری رہا۔ بی جے پی نے دوسرے دورِ حکومت میں بھی یہی وتیرہ اپنایا۔

مودی سرکار اب تک گائے کی دُم پکڑ کر چل رہی ہے۔ محض گائے کا احترام یقینی بنانے اور اُس کا ذبیحہ رکوانے کی بنیاد پر وہ اپنی سیاسی دکان زیادہ دیر تک چمکانا چاہتی ہے۔ کیا کسی ملک کو ایسی سوچ کے ساتھ چلایا جاسکتا ہے؟نریندر مودی نے بھارت کے وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد سے اب تک جو کچھ بھی کیا ہے وہ اتنا عجیب و غریب ہے کہ لوگ یہی طے نہیں کر پارہے کہ قہقہے لگائیں یا ماتم کریں۔ انتہا پسندی کو فروغ دینے کے نام پر نریندر مودی اور اُن کے (ظاہر ہے) بے عقل و بے ضمیر ساتھیوں نے ملک کی ”واٹ‘‘ لگانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ اِس ٹیم نے ثابت کیا ہے کہ ملک کو تعصب اور نفرت کی بنیاد پر بھی چلایا جاسکتا ہے۔ اب اگر اِس عمل میں ملک کا حشر نشر ہو جائے تو یہ اُس کا نصیب! نریندر مودی سے بھارت کے عوام نے خدا جانے کیا کیا توقعات وابستہ کرلی تھیں۔ اِس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کیونکہ عوام جب توقعات وابستہ کرنے پر آتے ہیں تو ہر حد بھول جاتے ہیں۔ بی جے پی نے سنگھ پریوار (حقیقی انتہا پسند ہندوؤں) کے ساتھ مل کر عام ہندوؤں کے دل و دماغ میں گائے کو ایسا داخل کیا ہے کہ وہ اب نکلنے کا نام نہیں لے رہی۔ بعض انتہا پسند ہندوؤں تو اب اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ وہ گائے کے گوبر کو صحتِ عامہ کے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں۔ یہ سب مودی سرکار کی سرپرستی میں پروان چڑھائی جانے والی انتہا پسند تنظیموں کا کیا دھرا ہے۔ اچھے خاصے ملک کو ”گائے بسیرا‘‘ بنانے کی ٹھانی گئی اور جوشِ عمل کا نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ اب بھارت ”گائوشالا‘‘ میں تبدیل ہوگیا ہے! اقتدار پر متصرف انتہا پسندوں کو اس بات سے کچھ بھی غرض نہیں کہ بے سمت پالیسیوں سے ملک کا کیا بنے گا، اقلیتوں پر مظالم ڈھانے سے معاشرے میں کس نوعیت کے بین المذاہب تعلقات جنم لیں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عالمی برادری میں ملک کی ساکھ کے نام پر کیا بچے گا۔گائے کو مقدس قرار دیتے ہوئے اُس کا تحفظ یقینی بنانے کے نام پر مودی سرکار کو صرف کمزوروں کے سامنے شیر بننا آتا ہے۔ سامنے اگر کوئی ٹکر کا ملک ہو تو بکری بننے میں یہ زیادہ دیر نہیں لگاتی۔ چین اور روس کے معاملے میں یہ ثابت ہوچکا ہے۔ امریکا اور یورپ سے بھارت کی گاڑھی چھننے کا ایک بنیادی سبب یہ بھی ہے کہ وہ برائے نام بھی مزاحمت نہیں کرتا، ہر معاملے میں سرِ تسلیم خم کرتا آیا ہے۔

”گائے سائنس‘‘ جیسی حرکتوں سے مودی سرکار ایک طرف سے تو ہدفِ استہزا بن رہی ہے اور دوسری طرف معاشرے میں مزید تقسیم اور شکست و ریخت کا سامان کر رہی ہے۔ دنیا اکیسویں صدی میں جی رہی ہے مگر نریندر مودی اور اُن کے ساتھی چاہتے ہیں کہ ڈھائی تین ہزار سال پہلے کا بھارت بحال ہو۔ بھارت کی بحالی سے متعلق کوششیں ایک طرف تو ماضی کو داغدار ثابت کر رہی ہیں جبکہ دوسری طرف بہتر مستقبل کی گنجائش گھٹارہی ہیں۔ رہ گیا حال؟ تو جناب! وہ تو ہے ہی بے حال۔

اپنا تبصرہ بھیجیں