ویل ڈن شاہ جی

میں 28 سال سے اسلام آباد کا رہائشی ہوں اورمیں 25سال سے اس شہر میں واک کر رہا ہوں‘ شاید ہی شہر کی کوئی سڑک ہو گی میرے پاؤں نے جس کا ذائقہ نہ چکھا ہو‘ میں پہاڑوں پر پیدل چلتا ہوا مری تک چلا جاتا تھا‘ ساری ٹریلز بھگتا چکا ہوں اور تمام فٹ پاتھوں پر بھی دھکے اور ٹھڈے کھا چکا ہوں‘ گلیوں کے سارے کتے اور درختوں کی تمام نوکیلی شاخیں تک مجھ سے واقف ہو چکی ہیں‘ لیٹ نائٹ واک کرتا ہوں لہٰذا کئی بار ڈاکوؤں نے بھی روک لیا لیکن پھر ترس کھا کر چھوڑ دیا۔

اس واک میں بے شمار لوگوں نے ساتھ دیا لیکن پھر ساتھ چھوڑ کر دائیں بائیں ہو گئے مگر میں مسلسل ٹھڈے کھاتا اور لمبی واکس کو انجوائے کرتا رہا‘ کورونا کے انتہائی دنوں میں حامد میر کا ساتھ بھی رہا‘ یہ رمضان میں رات گیارہ بجے سے سحری تک ساتھ دیتے تھے‘ سارا راستہ ان کی گفتگو سننے کا موقع ملتا تھا‘ جینوئن صحافی ہیں‘ تیس سال سے لائم لائٹ میں ہیں اور پارٹیوں اور سیاست دانوں کو اندر سے جانتے ہیں لہٰذا یہ ایک شان دار کمپنی ہیں‘ ارشاد بھٹی بھی چند دن ساتھی رہے‘ میں انھیں 22 سال سے جانتا ہوں۔

یہ اس زمانے میں تازہ تازہ حافظ آباد سے آئے تھے اور ایک چھوٹے سے روزنامے میں کام کرتے تھے‘ اس وقت بھی ان میں سیکھنے اور محنت کرنے کی بے تحاشا صلاحیت تھی‘ یہ بعدازاں ہاشوگروپ میں چلے گئے اور پھر اچانک واپس میڈیا کی سطح پر ابھر آئے‘ لوگ شروع میں ان کے لہجے اور گفتگو پر ہنستے تھے لیکن میں اس وقت بھی ساتھیوں سے کہتا تھا‘ یہ بہت جلد اپنی اسپیس بنا لیں گے‘ اس آبزرویشن کی دو وجوہات تھیں‘ ایک‘ یہ محنتی اور ان تھک انسان ہیں اور دوسرا ان میں عاجزی ہے اور یہ دونوں کام یابی کے ’’لیتھل کمبی نیشن‘‘ ہوتے ہیں‘ میں نے زندگی میں آج تک کسی محنتی اور عاجز انسان کو ناکام ہوتے نہیں دیکھا چناں چہ ارشاد بھٹی نے بہت جلد اسپیس بنا لی اور ان پر تنقید کرنے والے تمام لوگ پیچھے رہ گئے۔

یہ بھی چند دن واک کے ساتھی رہے‘ میں ان کے اسٹیمنے کو داد دیے بغیر نہ رہ سکا‘ یہ آرام سے دس بارہ کلو میٹر چل لیتے ہیں اور اس دوران دوسرے کی بات بھی سن لیتے ہیں اور یہ دونوں بھی ریئرفنامنا (Rare Phenomena) ہیں ورنہ پورا ملک بولیریا کی بیماری کا شکار ہے‘ آپ کسی کے پاس کھڑے ہو جائیں وہ بول بول کر آپ کی مت مار دے گا‘ ہم لوگ اپنے منہ کو سانس لینے کی مہلت بھی نہیں دیتے‘ ہمیشہ دوسروں کو سنانے کی جلدی میں رہتے ہیں لیکن ارشاد بھٹی دوسروں کی سن لیتے ہیں اور یہ بھی کام یابی کی خاص نشانی ہے۔

آپ جب تک سننے کا حوصلہ اور سلیقہ پیدا نہیں کرتے آپ اس وقت تک بولنے کا آرٹ نہیں سیکھ سکتے‘ واک کے اس سفر میں ان کے علاوہ بھی بے شمار لوگ آئے اور آہستہ آہستہ دائیں بائیں ہوتے رہے بس میں اور بھائی مجید طوفان میل کی طرح اس پاگل پن کو جپھا مار کر چل رہے ہیں اور ان شاء اللہ آخری سانس تک چلتے رہیں گے‘ اللہ تعالیٰ نے واک کی صلاحیت صرف انسان کو بخشی ہے‘ جانور صرف دوڑ سکتے ہیں‘ زیادہ دیر تک آہستہ نہیں چل سکتے‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ آہستہ چلنے سے تھک جاتے ہیں‘ آپ کتوں یا گھوڑوں کو دیکھ لیں یہ چلنے کے تھوڑی دیر بعد ہف جاتے ہیں جب کہ آپ اگر انھیں بھگانا شروع کر دیں تو یہ سارا سارا دن بھاگتے رہیں گے‘ انسان کی قامت کیوں کہ سیدھی ہے‘ یہ دو ٹانگوں پرکھڑا ہو کر چل سکتا ہے چناں چہ قدرت نے ہمارے جسم کا سارا سسٹم چال کے ساتھ باندھ دیا ہے۔

آپ چلتے ہیں تو آپ کے پاؤں کے ناخنوں سے لے کر سر کے بال تک پرورش پاتے ہیں‘ آپ بیٹھ یا لیٹ جاتے ہیں تو آپ کا سارا جسمانی سسٹم سلو ہو جاتا ہے اور آپ بیمار پڑ جاتے ہیں لہٰذا میں اپنے دوستوں سے کہتا ہوں آپ کو کوئی بھی مسئلہ ہو‘ آپ کا جہاز ڈوب رہا ہو یا پھر آپ کو طلاق ہو رہی ہو اس کا حل صرف اور صرف واک ہے‘ آپ واک شروع کر دیں آپ کی طلاق اور جہاز دونوں بچ جائیں گے۔ ’’حرکت میں برکت ہے‘‘ یہ صرف انسانوں کے لیے کہا گیا تھا‘آپ جب رک جاتے ہیں تو آپ پھر ڈوب جاتے ہیں لہٰذا صورت حال کچھ بھی ہو آپ چلتے رہیں صورت حال اور حالات دونوں بدل جائیں گے۔

میں اتوار کے دن عموماً ایف نائن پارک میں واک کرتا ہوں‘ گھر سے نکلتا ہوں‘ ایف نائن کو کراس کرتا ہوں اور بلیو ایریا یا سپر مارکیٹ تک چلا جاتا ہوں‘ یہ 15 کلو میٹر بنتے ہیں‘ میں اس اتوار کو ایف نائن پارک سے گزرا تو دیکھا مشرقی گیٹ کے سامنے کار سینما چل رہا تھا‘ جہازی سائز کی اسکرین لگی تھی۔

اس پر فلم چل رہی تھی اور لوگ گاڑیوں پر آ رہے تھے‘ ٹکٹ لیتے تھے اور گاڑی میں بیٹھ کر فلم دیکھ رہے تھے‘ میں لوگوں کو خوش دیکھ کر بڑی دیر تک خوش ہوتا رہا‘ عملے کے ایک فرد سے پوچھا ’’یہ آئیڈیا کس کا ہے‘‘ اس نے ہمارے دوست عامر احمد علی کا نام لے لیا‘ میں نے اسی وقت موبائل فون نکالا اور عامر صاحب کو آڈیو میسج بھجوا دیا‘ میں عامر صاحب کا خاندانی مرید ہوں‘ ان کے والد سعید مہدی پاکستان کے معزز ترین بیوروکریٹ تھے‘ ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر میاں نواز شریف تک پاکستان کی سیاسی اور دفتری تاریخ کے عینی شاہد ہیں‘ عامر احمد علی ان کے صاحب زادے ہیں‘ خاندانی ہیں‘ نہایت شائستہ‘ بردبار اور عاجز ہیں۔

دلائل سے بات کرتے ہیں ‘ مثبت ذہن کے مالک ہیں‘ میرے اس خاندان سے بیس سال سے تعلقات ہیں‘ عامر صاحب چیف کمشنر ہیں ‘ وزیراعظم نے انھیں اضافی طور پر سی ڈی اے کا چارج بھی دے رکھا ہے‘ یہ جب سے سی ڈی اے کے قائم مقام چیئرمین بنے ہیں‘ شہر میں واقعی تبدیلی نظر آ رہی ہے‘ لائٹس لگ گئی ہیں اور یہ رات کو آن بھی ہوتی ہیں‘ سڑکیں بھی ری پیئر ہو رہی ہیں‘ پانی کی اسکیمیں بھی لگ رہی ہیں اور کار سینما جیسی ایکٹوٹیز میں بھی اضافہ ہو گیا ہے‘ اس سے تفریح اور سہولتوں کو ترسے ہوئے شہر نے سانس لینا شروع کر دی ہے‘ یہ کامران لاشاری کے بعد اسلام آباد کا دوسرا دور ہے جس میں شہر میں تبدیلیاں نظر آرہی ہیں‘ میں نے عامر احمد علی صاحب کو میسج دیا‘ شاہ صاحب اب آپ بھی نیب کی تیاری کر لیں‘ آپ کام کر رہے ہیںاور ملک میں کام کرنے والے سارے لوگ بالآخر پکڑے جاتے ہیں۔

یہ ملک کی بہت بڑی بدقسمتی ہے‘ہم میں بنیادی طور پر تین بڑی خامیاں ہیں‘ ہم اینٹی ہیپی نیس (خوشیوں کے خلاف) ہیں‘ ہم اینٹی ڈویلپمنٹ ہیں اور ہم اینٹی بزنس ہیں اور یہ تینوں چیزیں معاشروں کے لیے ضروری ہوتی ہیں‘ سوسائٹی میں اگر خوشی ہی نہیں ہو گی تو لوگ زندگی کیسے گزاریں گے؟ ملک میں اگرسڑکیں‘ پل‘ پارک‘ فٹ پاتھ اور ٹرانسپورٹ نہیں ہو گی تو یہ ترقی کیسے کرے گا اور اگر ملک بزنس فرینڈلی نہیں ہوگا تو روزگار کے ذرایع کیسے پیدا ہوں گے اور غربت اور بے روزگاری کیسے ختم ہو گی؟ جب کہ ہم بدقسمتی سے ملک میں بزنس چلنے دیتے ہیں اور نہ ڈویلپمنٹ ہونے دیتے ہیں۔

پنجاب کی پوری تاریخ میں میاں شہباز شریف سے زیادہ کسی حکمران نے کام نہیں کیا‘ پنجاب کو ہر دور میں تباہ ضرور کیا گیا لیکن اسے بنانے کا کام شہباز شریف کے علاوہ کسی نے نہیں کیا لیکن کیا نتیجہ نکلا؟ یہ نیب کی حراست میں پرفارمنس کی سزا بھگت رہے ہیں‘ احد چیمہ کا قصور بھی یہی تھا‘ اس نے ریکارڈ مدت میں پنجاب کو میٹروز اور بجلی کا تحفہ دیا‘ یہ اگر کام نہ کرتا تو ملک آج بھی اندھیرے میں ڈوبا ہوتا اور لاہور‘ راولپنڈی اور ملتان کی شہری زندگی ٹریفک جام میں سسک رہی ہوتی۔

یہ بے چارہ بھی 35ماہ سے اپنے کارناموں کی سزا بھگت رہا ہے چناں چہ آپ ملک کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں‘ قائداعظم سے لے کر شہباز شریف تک جس نے بھی کام کیا‘ جس نے بھی ملک پر احسان کیا وہ جیل ضرور پہنچا جب کہ ملک توڑنے‘ ملک کو نقصان پہنچانے اور کچھ نہ کرنے والے لوگ عزت اور آبرو کے ساتھ گھروں میں بیٹھے رہے‘ یہ کیا ہے؟ یہ ہماری اینٹی ڈویلپمنٹ سوچ ہے اورہم اینٹی بزنس بھی ہیں‘ آپ ملک میں دکان یا دفتر کھول کر دکھا دیں سسٹم آپ کو عبرت کا نشان بنا دے گا‘ آپ ٹیکس نہ دیں‘ آپ کو کوئی نہیں پوچھے گا لیکن آپ اگر ٹیکس پیئر ہیں تو پھر آپ کی پوری عمر فائلوں میں گزرے گی‘ پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جس میں ہر بزنس مین کے خلاف مقدمہ ضرور بنتا ہے اور اس کی زندگی مقدمہ بازیوں اور سرکاری دفتروں میں گزرتی ہے۔

آپ اگر کچھ نہ کریں تو سسٹم داماد کی طرح آپ کی عزت کرے گا لیکن آپ نے جس دن کام شروع کر دیا پورا ملک آپ کے خلاف اٹھ کھڑا ہوگا‘ آپ اپنے آپ سے لے کر ملک ریاض تک کوئی مثال دیکھ لیں‘ آپ کو ملک کے زوال کی وجہ معلوم ہو جائے گی‘ یورپ دو تین لوگوں کو ملازمتیں دینے والوں کو خاندان سمیت امیگریشن دے دیتا ہے لیکن یہاں دو چار ہزار ملازموں والے جیلوں میں سڑتے ہیںاور ہماری تیسری بری عادت ہم خوشی کے خلاف ہیں‘ ہم قہقہے‘ ہنسی اور تالی کو برا سمجھتے ہیں۔

پوری دنیا میں نیوایئر سیلی بریٹ کی جاتی ہے لیکن ہمارے ملک میں 31 دسمبر کی رات پولیس ڈنڈے لے کر سڑکوں پرپھر رہی ہوتی ہے‘ پوری دنیا میں لوگ شادیوں پر خوشیاں مناتے ہیں جب کہ ہم اپنی پھوپھیاں اور چاچیاں مناتے رہتے ہیں‘ عید‘ شب رات اور 14 اگست پر بھی لڑائیاں ہوتی ہیں‘ ہم خود خوش ہوتے ہیں اور نہ کسی دوسرے کو ہونے دیتے ہیں‘ آپ یقین کریں ہم جب تک اپنے یہ تین رویے نہیں بدلیں گے ہم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکیں گے‘ آپ یہ لکھ کر دیوار پر لگا لیں چناں چہ ہمیں عامر احمد علی جیسے لوگوں کی قدر کرنی چاہیے۔

ویل ڈن شاہ جی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں