مردِ درویش

جو لوگ رئوف طاہر کو جانتے تھے وہ تو اسے جانتے ہی تھے جو نہیں جانتے وہ یہ جان لیں کہ لاہور چند روز پہلے ایک درویش صفت صحافی سے محروم ہو گیا ہے۔ میری اور رئوف طاہر کی نظریاتی اٹھان ایک ہی شخص سے جڑی ہوئی تھی۔ میرا رئوف طاہر سے پہلا تعارف مرحوم ذوالکفل بخاری کے توسط سے ہوا۔ تب ذوالکفل بخاری مکہ میں عربیوں کو انگریزی پڑھا رہا تھا اور رئوف طاہر جدہ میں اردو نیوز کے واسطے سے اردو کے پھولوں کی آبیاری کر رہا تھا۔ رئوف طاہر اپنے سعودی عرب کے اسی قیام کے دوران میاں نواز شریف سے راہ و رسم بنا بیٹھا اور پھر تا عمر اسے نبھاتا رہا۔

وہ دھڑے کا آدمی تھا۔ دھڑے کا آدمی اگر دھڑلے کا نہ ہو تو مزہ نہیں آتا۔ اس میں دونوں خوبیاں تھیں۔ شاید اسی وجہ سے میری جب بھی اس سے ملاقات ہوئی تکلف کا ایک پردہ سا درمیان میں رہا۔ میں میاں نواز شریف کا ناقد تھا اور وہ میاں صاحب کا صرف ممدوح ہی نہیں، متوالا تھا۔ لاہور میں رئوف طاہر سے میری ملاقاتوں کا بہانہ دوستوں کے بچوں کی خوشیوں میں شرکت کے طفیل چلتا رہا تھا۔ میری اس سے آخری ملاقات بھی ارشاد عارف کے بیٹے شاہ حسن کے ولیمہ کی تقریب میں ہوئی۔ میں ملتان سے سیدھا تقریب میں آیا تھا۔ تھوڑی تاخیر ہو چکی تھی اور میں پنڈال کے اندر کسی میز پر دوستوں کو تلاش کر رہا تھا، اسی دوران مجھے رئوف طاہر کی آواز سنائی دی۔ بلند آہنگ رئوف طاہر دکھائی دینے سے پہلے ہی سنائی دے دیا کرتا تھا، اور یہی ہوا۔ دوستوں کے ساتھ تعلقات خوشگوار رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ کبھی بھی اس کی کمزوری کو نہ چھیڑا جائے اور میاں نواز شریف اس کی کمزوری تھا۔ میری اور اس کی گفتگو کے دوران کبھی بھی سیاست نہیں آتی تھی۔ مجھے علم تھا کہ اس کا نتیجہ بدمزگی کے علاوہ اور کچھ نہ ہو گا۔ لیکن اس سیاسی گفتگو سے مراد محض حالیہ سیاسی صورتحال تھی۔ رئوف طاہر پاکستانی سیاست کا ایسا انسائیکلوپیڈیا تھا جسے واقعات پوری جزئیات، ترتیب، تفصیل اور تاریخ وار یاد ہوتے تھے۔ اس لیے اس کے ساتھ بیٹھ کر وہ ساری باتیں سننے کا مزہ آتا تھا جس کا ہم بذات خود حصہ تھے اور شاہد بھی، لیکن جس حسن ترتیب سے وہ واقعات کو پوری تفصیل اور تمہید کے ساتھ سناتا‘ وہ اسی کا خاصہ تھا۔ افسوس پاکستان کی سیاسی تاریخ سے آگاہی کا ایک اور باب بند ہوا۔

اس روز بھی وہ اسی روانی سے مختلف واقعات سنا رہا تھا۔ زیادہ دیر کسی ایک موضوع پر بات کرنا شاید اسے مزہ نہیں دے رہا تھا۔ ہر چند منٹ کے بعد وہ گفتگو کے کسی ذیلی واقعے کی طرف مڑ جاتا اور اس ذیلی واقعے کو مرکزی بنا دیتا اور پھر چند منٹ بعد اس کے ساتھ بھی وہی کرتا جو پہلے واقعے کے ساتھ کیا تھا۔ بالکل ایسی روانی کے ساتھ جیسے ریل گاڑی پوری رفتار سے چلتے چلتے پٹڑیاں بدلتی جائے، لیکن تسلسل نہ ٹوٹے۔ زندگی سے بھرپور اور کرارا لہجہ۔ لگتا ہی نہیں تھاکہ یہ آواز اس طرح اچانک اور غیر متوقع طور پر ہم سے کھو جائے گی‘ لیکن یہی زندگی ہے۔ ذوالکفل بھی بالکل اسی طرح اچانک ہی چلا گیا تھا۔ سید عطااللہ شاہ بخاری کا نواسہ دراصل شروع میں تو میرے لیے سید کفیل بخاری کا چھوٹا بھائی تھا اور ہم اسے بالکل اسی طرح لیتے تھے جس طرح دوستوں کے چھوٹے بھائیوں کو لیا جاتا ہے۔ برخوردار سمجھنا اور ہلکا لینا۔ بعد میں ملال رہا کہ ہم نے اس نوجوان کو خواہ مخواہ اتنا عرصہ Under estimate کیا۔ تعارف کروانے والا بھی اچانک ہی ہمیں چھوڑ کر چلا گیا اور بالکل اسی طرح رئوف طاہر بھی۔

میں حسب معمول سفر میں تھا کہ ملتان سے شوکت علی انجم کا فون آیا۔ کہنے لگا: رئوف طاہر کے بارے میں آپ کو کچھ پتا چلا ہے؟ میں نے کہا: خیر ہے‘ کیا بات ہے؟ وہ کہنے لگا: میں نے ابھی سوشل میڈیا پر پڑھا ہے کہ رئوف طاہر کا انتقال ہوگیا ہے۔ میں نے کہا: میں تو گاڑی چلا رہا ہوں اور ویسے بھی انہی افواہوں کے باعث سوشل میڈیا سے قطع تعلق کیے ایک عرصہ ہوگیا ہے‘ آپ کنفرم کرکے مجھے بتائیں۔ تھوڑی دیر بعد ایک اور دوست نے اس خبر کی تصدیق کردی۔ میں نے خبر سن کرگاڑی ایک طرف روکی۔ اس کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی۔ وہ اپنے سیاسی نظریات اور میاں صاحب سے محبت کے حوالے سے اپنی تحریروں کے باعث بے شک بہت سے لوگوں کی پسند سے ہٹ کر لکھتا تھا‘ مگر اس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی وہ جیسا تھا ویسا ہی نظر آتا تھا اور وہ اس پر خوش اور مطمئن بھی بہت تھا۔

اردو صحافت کے جید اخبارات و رسائل میں کام کرکے اپنا مقام بنانے والے رئوف کو اگر تھوڑی سی مالی آسودگی اور گھر کی چھت ملی تو اس کا سارا سہرا اردو نیوز کی ملازمت اور پردیس کی مشقت کے سرجاتا ہے۔ برادر عزیز سلمان غنی کے ساتھ رئوف طاہر کی باتیں چلیں تو ایسی ایسی چیزوں کا علم ہواکہ لکھنے کا یارا نہیں۔ جدہ سے واپسی کے بعد دوبارہ قلم ہاتھ میں لیا اور لکھنے کی مشفقت پھر شروع کردی۔ ایک دوبار غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کے دفتر میں برادر عزیز عامر محمود جعفری کے ہاں ملاقات ہوئی تو لگتا ہی نہیں تھاکہ ہم اتنے عرصے کے بعد مل رہے ہیں۔ ہرحال میں خوش نظر آنے والا رئوف طاہر کیا واقعی اتنا خوش تھا یا محض ہمیں لگتا تھا؟

اے قہقہے بکھیرنے والے تو خوش بھی ہے؟

ہنسنے کی بات چھوڑ کہ ہنستا تو میں بھی ہوں

رئوف طاہر کی وفات کے اگلے روز عامر محمود جعفری سے بات ہوئی تو وہ بتانے لگاکہ رئوف طاہر کے جنازے پر بہت سے لکھنے والے موجود تھے۔ میں نے پوچھا اور جن کیلئے وہ بہت سی مخالفتیں پالتا رہا اور جن کی لڑائیاں لڑتا رہا‘ ان میں سے کون کون آئے تھے؟ عامر کہنے لگا: یہ ایک افسوسناک صورتحال تھی کہ سوائے خواجہ سعد رفیق کے کوئی بھی اور قدآور سیاسی شخصیت اس کے جنازے میں موجود نہ تھی۔ خواجہ سعد رفیق بھی بالکل ذاتی نوعیت کے تعلقات کی وجہ سے آیا تھا۔ اسے آپ اس کے محبوب سیاسی دھڑے کی نمائندگی نہیں کہہ سکتے۔ میں ایک دم سوچ میں پڑگیا کہ کیا رئوف طاہر ان کا بے لوث جنگجو نہ تھا‘ جو قلم سے ان کی خاطر کسی کو خاطر میں لائے بغیر لڑتا رہا؟ اسے ذاتی طور پر اس ساری محبت میں سوائے دو عدد ڈکیتیوں کے اور کیا حاصل ہوا؟ جس میں اس کی ساری جمع پونجی چلی گئی۔ آج جبکہ کسی بھی سیاسی نظریے کیلئے لکھنے والے کیلئے ہر مخالف شخص ‘لفافہ صحافی‘ کا لفظ استعمال کرتا ہے‘ اس گئے گزرے دور میں رئوف طاہر ان لکھنے والوں میں سے تھا جنہوں نے قلم کو پاکیزہ رکھا۔ ایک دوست کہنے لگا: کیا اب ایسے صحافی موجود ہیں جو کسی دھڑے کے ساتھ بھی کھڑے ہوں اور ان کا مطمح نظر نظریے سے وفاداری کے علاوہ اور کچھ نہ ہو‘ تو میں نے جن لوگوں کا نام لیا، رئوف طاہر ان میں سے ایک تھا۔ افسوس یہ فہرست‘ جو پہلے ہی خاصی مختصر تھی‘ اس کے جانے کے بعد اور بھی چھوٹی ہو گئی ہے۔

جنازوں کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کیلئے استعمال کرنے والے اگر رئوف طاہر کے جنازے پر آ جاتے تو کیا حرج تھا؟ مسلسل اور بے لوث قلم کے سپاہی کیلئے صرف ٹویٹ کافی نہیں ہوتا۔ اور سپاہی بھی ایساکہ جس نے مالی منفعت کے اس دور میں درویشی، قلندری اور فقر پر گزارہ کیا ہو۔ لکھنے والوں میں کتنے ہیں جن کے بارے میں لوگ ایسی گواہی دیں گے؟ اللہ پر ایمان اور رسول کی محبت کے طفیل ایک منور قبر کے مکین کو جتنا نقصان اس کے محبوب لیڈر کے دائیں بائیں موجود لوگوں نے پہنچایا، کسی نے بھی نہیں پہنچایا ہو گا، وہ ایسا باوفا مردِ درویش تھاکہ اسے غیروں سے زیادہ اپنوں نے اور دشمنوں سے زیادہ دوستوں نے زک پہنچائی۔ ہم ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں ہم ایسے لوگوں کی خاطر اپنے دوستوں سے بگاڑ لیتے ہیں جو ہماری زندگی میں بھی ہمارے نہیں ہوتے مرنے کے بعد کی تو بات ہی اور ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں